کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی کسی عورت کابوسہ لے تو کیا اس عورت کی بیٹی اس مرد کے لیے حلال ہوگی؟ یا وہ کسی لڑکی کا بوسہ لے تو اس لڑکی کی ماں اس آدمی کے لئے حلال ہوگی؟
حدیث نمبر: 18157
١٨١٥٧ - حدثنا أبو بكر (قال) (١) (حدثنا) (٢) وكيع عن جرير عن قيس بن سعد عن مجاهد قال: إذا قبلها أو (لمسها) (٣) أو نظر إلى فرجها حرمت عليه ابنتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کسی عورت کا بوسہ لے، اسے شہوت کے ساتھ چھوئے یا اس کی شرمگاہ کو دیکھے تو اس کی بیٹی اس مرد پر حرام ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 18158
١٨١٥٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا (قبل) (١) (الأم) (٢) لم تحل له ابنتها وإذا قبل ابنتها لم تحل له (أمها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کسی ماں کا بوسہ لے تو اس کی بیٹی حرام ہوجائے گی اور اگر کسی بیٹی کا بوسہ لے تو ماں حرام ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 18159
١٨١٥٩ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن في الرجل يقبل المرأة أو يلمسها أو يأتيها في غير فرجها: إن شاء تزوجها وإن شاء تزوج ابنتها، وإن كانت البنت، تزوج (الأم) (١) إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کسی عورت کا بوسہ لیا، یا اسے شہوت سے چھوا یا شرمگاہ کے علاوہ کسی اور جگہ اس سے صحبت کی تو چاہے تو اس سے شادی کرلے اور چاہے تو اس کی بیٹی سے شادی کرلے اور اگر کسی لڑکی سے ایسے کیا تو اس کی ماں سے شادی کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 18160
١٨١٦٠ - حدثنا محمد بن يزيد عن أبي العلاء عن قتادة وأبي هاشم قالا في الرجل يقبل (أم امرأة) (١) أو ابنتها قالا: حرمت عليه (امرأته) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ اور حضرت ابو ہاشم d فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی بیوی کی ماں یا بیٹی کا بوسہ لیا تو بیوی اس پر حرام ہوجائے گی۔