کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی کسی باندی سے شادی کرے، پھر دخول سے پہلے اس باندی کو آزاد کردیا جائے، پھر شرعی حکم کے مطابق اس عورت کو خاوند کے قبول کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ملے لیکن وہ خاوند سے علیحدگی کو اختیار کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا؟
حدیث نمبر: 18133
١٨١٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (عبدة) (١) بن سليمان عن سعيد عن عبد الكريم عن مجاهد ومقسم عن ابن عباس أن أمة أعتقت فاختارت نفسها قبل أن ⦗٥٠٥⦘ يدخل بها قال: لا شيء لها، لا (يجمع) (٢) عليه (أمر) (٣) (يذهب) (٤) بنفسها وماله (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی کسی باندی سے شادی کرے، پھر دخول سے پہلے اس باندی کو آزاد کردیا جائے، پھر شرعی حکم کے مطابق اس عورت کو خاوند کے قبول کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ملے لیکن وہ خاوند سے علیحدگی کو اختیار کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے کچھ نہیں ملے گا، وہ اپنے نفس اور مہر دونوں چیزوں کو حاصل نہیں کرسکتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18133
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18133، ترقيم محمد عوامة 17530)
حدیث نمبر: 18134
١٨١٣٤ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا أعتقت الأمة وهي تحت العبد (فخيرت) (١) فاختارت نفسها قبل أن يدخل بها فلا صداق لها وهي تطليقة بائنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی باندی کسی غلام کے نکاح میں تھی، پھر اسے آزاد کیا گیا اور آزادی کے بعد اختیار دیا گیا اور اس نے دخول سے پہلے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو اس عورت کو مہر نہیں ملے گا اور یہ طلاق بائنہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18134
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18134، ترقيم محمد عوامة 17531)
حدیث نمبر: 18135
١٨١٣٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في رجل (زوج) (١) أمته على مهر مسمى ثم أعتقها قبل أن يدخل بها (زوجها) (٢) فتخير، فتختار نفسها قال: يبطل النكاح ويرد على الزوج مهره.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے مقررشدہ مہر پر اپنی باندی سے شادی کی، پھر وہ باندی دخول سے پہلے آزاد کردی گئی، پھر اسے اختیار ملا اور اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو نکاح باطل ہوجائے گا اور مہر اس کے خاوند کو واپس کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18135
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18135، ترقيم محمد عوامة 17532)
حدیث نمبر: 18136
١٨١٣٦ - حدثنا وكيع عن شعبة عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا اختارت نفسها وقد أعتقت قبل أن يدخل بها فلا صداق لها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کسی باندی سے شادی کرے، پھر دخول سے پہلے اس باندی کو آزاد کردیا جائے، پھر شرعی حکم کے مطابق اس عورت کو خاوند کے قبول کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ملے لیکن وہ خاوند سے علیحدگی کو اختیار کرلے تو اسے مہر نہیں ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18136
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18136، ترقيم محمد عوامة 17533)
حدیث نمبر: 18137
١٨١٣٧ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث (عن هشام) (١) عن عبد الكريم عن مجاهد قال: لا شيء لها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کسی باندی سے شادی کرے، پھر دخول سے پہلے اس باندی کو آزاد کردیا جائے، پھر شرعی حکم کے مطابق اس عورت کو خاوند کے قبول کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ملے لیکن وہ خاوند سے علیحدگی کو اختیار کرلے تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18137
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18137، ترقيم محمد عوامة 17534)