کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی دخول سے پہلے عورت کو طلاق بائنہ دے دے اور پھر اس خیال سے جماع کربیٹھے کہ ابھی رجوع کاحق ہے تواس عمل کا کیا حکم ہوگا؟
حدیث نمبر: 18119
١٨١١٩ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) محمد بن (أبي) (٢) (٣) عدي عن يونس عن الحسن في الرجل (يطلق) (٤) امرأته تطليقة أو تطليقتين قبل أن يدخل بها ثم (غشيها) (٥) وهو يرى أن له عليها رجعة قال: لها الصداق ويفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ایک یا دو طلاقیں دیدے اور یہ سمجھتے ہوئے اس سے جماع کرے کہ ابھی رجوع کا حق باقی ہے تو عورت کو مہر ملے گا اور دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
حدیث نمبر: 18120
١٨١٢٠ - حدثنا محمد بن سواء عن سعيد عن قتادة في رجل طلق امرأته، ثم غشيها وهو يرى أن له عليها رجعة، قال: لها الصداق كاملا (لغشيانه) (١) إياها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو اس عورت کو پورا مہر ملے گا۔ کیونکہ مرد عورت سے جماع کرچکا ہے۔
حدیث نمبر: 18121
١٨١٢١ - [حدثنا محمد بن سواء عن سعيد عن مطر عن الحكم قال: لها الصداق كاملًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو اس عورت کو پورا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 18122
١٨١٢٢ - حدثنا محمد بن سواء عن سعيد عن (يونس) (١) عن (الحسن) (٢) قال: لها الصداق كاملًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو اس عورت کو پورا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 18123
١٨١٢٣ - حدثنا محمد بن سواء (عن سعيد) (١) عن حماد عن إبراهيم قال: لها (صداق) (٢) ونصف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو اس عورت کو پورا مہر اور نصف ملے گا۔
حدیث نمبر: 18124
١٨١٢٤ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في رجل طلق امرأته قبل أن يدخل بها واحدة، ثم غشيها وهو يرى أن له عليها الرجعة قال: يفرق بينهما، ولها الصداق كاملًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور اس عورت کو پورا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 18125
١٨١٢٥ - حدثنا غندر عن شعبة (عن حماد) (١) عن إبراهيم قال: لها صداق ونصف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو اس عورت کو پورا مہر اور نصف ملے گا۔ اور حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے پورا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 18126
١٨١٢٦ - وقال الحكم: لها (صداق) (١).
حدیث نمبر: 18127
١٨١٢٧ - حدثنا الضحاك (بن) (١) مخلد عن المثنى عن عطاء في رجل طلق امرأته ثلاثًا وجهل فأصابها قال: (لها) (٢) الصداق كاملًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، پھر جہالت کی وجہ سے اس سے جماع کرلیا تو اس عورت کو پورا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 18128
١٨١٢٨ - حدثنا (عمر) (١) بن هارون عن الأوزاعي (عن عطاء) (٢) قال: لها (صداق) (٣) ونصف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو اس عورت کو پورا مہر اور نصف ملے گا۔
حدیث نمبر: 18129
١٨١٢٩ - حدثنا حفص عن (مسعر) (١) عن حماد قال: صداق ونصف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو اس عورت کو پورا مہر اور نصف ملے گا۔
حدیث نمبر: 18130
١٨١٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن (عمرو) (١) عن جابر بن زيد قال: سئل عمن تزوج امرأة ثم طلقها قبل أن يمسها ثم قيل له: إنها لم تحرم عليك فدخل بها (بالنكاح) (٢) الأول فمكثت عنده سنتين فولدت له أولادًا فعلم بذلك أنها عليه حرام قال: يفرق بينهما ويعطي المرأة بنكاحها الأول نصف مهرها، (ومن دخوله) (٣) بها ومجامعته إياها مهرًا كاملًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو چھونے سے پہلے اسے طلاق دے دے اور اسے کہا جائے کہ وہ تجھ پر حرام نہیں ہوئی، اور وہ پہلے نکاح کی بنیاد پر اس سے جماع کرلے اور وہ عورت اس مرد کے پاس دو سال تک ٹھہری رہے اور اولاد کو جنم دے پھر انہیں علم ہو کہ یہ عورت تو اس مرد پر حرام ہوگئی ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی، وہ عورت کو پہلے نکاح کی وجہ سے آدھا مہر دے گا اور دخول اور جماع کی وجہ سے پورا مہر دے گا۔
حدیث نمبر: 18131
١٨١٣١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن سالم عن الشعبي قال: لها الصداق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو اس عورت کو پورامہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 18132
١٨١٣٢ - حدثنا وكيع (عن) (١) سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: لها صداق ونصف.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (دخول سے پہلے) طلاق دی اور پھر اس سے یہ سمجھتے ہوئے وطی کرلی کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے تو اس عورت کو پورا مہر اور نصف ملے گا۔