کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جس آدمی کی شادی ہو اسے کیا دعادینی چاہئے؟
حدیث نمبر: 18099
١٨٠٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن (السري) (١) بن يحيى عن الحسن قال: قال رجل للآخر: بالرفاء والبنين، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقولوا هكذا (٢)، قولوا: بارك اللَّه فيك وبارك عليك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک آدمی نے دوسرے کی شادی کے موقع پر اسے دعا دی : بِالرِّفَائِ والبَنِیْنَ (خوش رہو اور اولاد پاؤ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا کہ یوں نہ کہو بلکہ یہ کہو : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18099
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18099، ترقيم محمد عوامة 17497)
حدیث نمبر: 18100
١٨١٠٠ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن عقيل بن أبي طالب تزوج امرأة من بني (جشم) (١) فدعاهم فقالوا: بالرفاء والبنين، فقال: لا تقولوا ذاك، قالوا: كيف نقول يا أبا (يزيد) (٢)؟ قال: تقولون بارك اللَّه لك وبارك عليك، فإنا كنا نقول أو نؤمر بذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بنو جشم کی ایک عورت سے شادی کی پھر لوگوں کی دعوت کی تو لوگوں نے انہیں بِالرِّفَائِ والبَنِیْنَ کہہ کر دعا دی۔ انہوں نے فرمایا کہ یوں نہ کہو۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر ہم کیا کہیں تو انہوں نے فرمایا کہ تم کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے کیونکہ ہمیں یہی کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18100
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18100، ترقيم محمد عوامة 17498)