کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک آدمی عورت سے اس بات پر شادی کرے کہ مہر کے بارے میں عورت کی فرمائش مانی جائے گی
حدیث نمبر: 18093
١٨٠٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن علي بن مدرك قال: سمعت النخعي قال: تزوج الأشعث امرأة على حكمها (فرفع) (١) إلى عمر بن الخطاب فقال: ارضها ارضها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اشعث نے ایک عورت سے منہ مانگے مہر پر شادی کی، پھر یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اسے راضی کرو، اسے راضی کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18093
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18093، ترقيم محمد عوامة 17491)
حدیث نمبر: 18094
١٨٠٩٤ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: (إذا) (١) تزوج الرجل المرأة على حكمها أو حكمه فجار في الصداق (أو) (٢) جاروا رد ذاك إلى صداق مثلها لا (وكس) (٣) ولا (شطط) (٤)، (والنكاح) (٥) جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شادی اس بات پر ہوئی کہ مہر کے معاملے میں عورت یا مرد کے حکم کا اعتبار ہوگا اور بعد میں جھگڑا ہوگیا تو بغیر کمی زیادتی کے مہر مثلی ملے گا اور نکاح جائز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18094
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18094، ترقيم محمد عوامة 17492)
حدیث نمبر: 18095
١٨٠٩٥ - حدثنا وكيع عن أبي هلال عن محمد بن سيرين قال: خطب عمرو بن حريث إلى عدي بن حاتم ابنته فأبى إلا على حكمه فرجع عمرو فاستشار أصحابه فقالوا (له) (١): أتريد أن تحكم رجلًا من طيء في عقدك، فأبت نفسه فتزوجها على حكمه ثم انصرف، فحكم عدي سنة النبي ﷺ (٢) ثمانين (وأربع) (٣) مائة فبعث إليه عمرو بعشرة آلاف وقال: جهزها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن حریث رحمہ اللہ نے عدی بن حاتم رحمہ اللہ کی بیٹی کے لئے نکاح کا پیغام بھجوایا۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مہر میرے حکم کے مطابق طے ہوگا۔ عمرو بن حریث نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کیا تم طی کے ایک آدمی کو اپنے نکاح کے معاملے کا حاکم بناؤ گے۔ عمرو بن حریث نے پھر بھی انہیں ہی حکم سونپ دیا تو حضرت عدی نے فیصلہ کیا کہ حضور ﷺ کی سنت چارسو اسی ہے۔ عمرو نے انہیں دس ہزار بھیجے اور کہا کہ اپنی بیٹی کی رخصتی فرمادیجئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18095
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18095، ترقيم محمد عوامة 17493)
حدیث نمبر: 18096
١٨٠٩٦ - حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين أن الأشعث تزوج امرأة على حكمها فسأله (عمر) (١) عنها فقال: بت (بليلة) (٢) لا يعلمها إلا اللَّه (مخافة) (٣) أن (تحكم) (٤) عليّ في مال قيس فقال: ليس ذلك لها إنما لها مهر نسائها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت اشعث رحمہ اللہ نے ایک عورت سے اس کے منہ مانگے مہر پر شادی کی اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا کہ میں نے اس کے ساتھ ایک رات گزاری ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے، اس خوف کے ساتھ کہ کہیں وہ مجھ پر قیس کے مال کی فرمائش نہ کردے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اسے یہ نہیں ملے گا اسے مہر مثلی ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18096
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18096، ترقيم محمد عوامة 17494)
حدیث نمبر: 18097
١٨٠٩٧ - حدثنا يعلى بن عبيد عن عبد الملك عن عطاء في رجل تزوج امرأة على حكمه فماتت المرأة قبل أن يحكم الرجل، قال: لها صداق نسائها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی عورت سے اپنی مرضی کے مہر پر شادی کرے اور مہر کی تقرری سے پہلے آدمی کا انتقال ہوجائے تو عورت کو مہر مثلی ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18097
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18097، ترقيم محمد عوامة 17495)
حدیث نمبر: 18098
١٨٠٩٨ - حدثنا يعلى (عن) (١) عبد الملك عن عطاء في رجل تزوج امرأة على حكمه فحكم عشرة دراهم قال: يجوز، (قد) (٢) كان المسلمون يتزوجون على أقل من ذلك وأكثر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے اپنی مرضی کا مہر دینے پر شادی کی، پھر اس نے دس درہم مہر دیے تو حضرت عطاء رحمہ اللہ نے اسے جائز قرار دیا اور فرمایا کہ مسلمان اس سے کم اور زیادہ مہر پر نکاح کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18098
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18098، ترقيم محمد عوامة 17496)