حدیث نمبر: 18055
١٨٠٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن هشام (بن) (١) عروة عن أبيه قال: كان (يقال) (٢): (إن خولة) (٣) بنت حكيم من اللاتي وهبن أنفسهن للنبي ﵇ (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنا نفس نبی ﷺ کے لئے ہبہ کردیا۔
حدیث نمبر: 18056
١٨٠٥٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن مجاهد: ﴿وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ﴾ [الأحزاب: ٥٠]، قال: لم تهب نفسها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَامْرَأَۃً مُؤْمِنَۃً إِنْ وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس عورت نے اپنا نفس ہبہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 18057
١٨٠٥٧ - حدثنا غندر (عن شعبة) (١) عن الحكم قال: كتب عبد الملك إلى أهل المدينة يسألهم قال: فكتب إليه علي قال شعبة: وظني أنه ابن حسين قال: (وأخبرني أبان بن (تغلب) (٢) عن الحكم أنه علي بن حسين، قال) (٣): هي امرأة من الأزد يقال لها: أم (شريك) (٤) وهبت نفسها للنبي ﵇ (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبد الملک نے مدینہ والوں سے اس عورت کے بارے میں پوچھنے کے لئے خط لکھا تو جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین رحمہ اللہ نے لکھا کہ وہ قبیلہ ازد کی ام شریک نامی عورت تھیں جنہوں نے اپنا نفس حضور ﷺ کے لئے ہبہ کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 18058
١٨٠٥٨ - حدثنا غندر عن شعبة قال: حدثني عبد اللَّه بن أبي السفر عن الشعبي أنها امرأة من الأنصار وهبت نفسها للنبي ﷺ (١) وهي ممن أرجأ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک انصاری عورت تھیں جنہوں نے اپنا نفس حضور ﷺ کے لئے ہبہ کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 18059
١٨٠٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة قال: (و) (١) حدثني أهل المدينة أنهم كانوا يقولون للشيء: لهو أعظم (نحيًا) (٢) من (نحي) (٣) أم شريك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ والے کسی بہت زیادہ برکت والی چیز کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ وہ ام شریک کے مشکیزے سے بھی زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 18060
١٨٠٦٠ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن محمد بن كعب و (عمر) (١) ⦗٤٨٥⦘ ابن الحكم وعبد اللَّه بن (عبيدة) (٢) قالوا: التي وهبت نفسها للنبي ﷺ ميمونة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب، حضرت عمر بن حکم اور حضرت عبداللہ بن عبیدہ s فرماتے ہیں کہ جس عورت نے اپنا نفس حضور ﷺ کو ہبہ کردیا تھا وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
حدیث نمبر: 18061
١٨٠٦١ - حدثنا شبابة بن سوار عن (ورقاء) (١) عن ابن أبي نجيح عن مجاهد: ﴿وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ (٢)﴾ قال: بغير صداق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَامْرَأَۃً مُؤْمِنَۃً إِنْ وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد بغیر مہر کے نکاح کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 18062
١٨٠٦٢ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد: ﴿وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً (إِنْ) (١) وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ (٢)﴾، قال: فعلت ولم (يفعل) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَامْرَأَۃً مُؤْمِنَۃً إِنْ وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ عورت نے تو نفس ہبہ کردیا تھا لیکن حضور ﷺ نے قبول نہیں فرمایا۔