کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بیوی سے شرعی ملاقات کے کیاآداب ہیں؟
حدیث نمبر: 18036
١٨٠٣٦ - (حدثنا) (١) أبو بكر قال: (نا) (٢) جرير عن منصور عن سالم عن ⦗٤٧٨⦘ كريب عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو أن أحدكم إذا أراد أن يأتي أهله قال: بسم اللَّه اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا، فإنه إن يقدر بينهما ولد في ذلك لم يضره شيطان أبدًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے تو یہ دعاپڑھے : اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ ! ہمیں شیطان سے محفوظ فرما، جو اولاد تو ہمیں عطا کرے اس کو بھی شیطان سے محفوظ فرما۔ یہ دعا پڑھنے کے بعد اگر اللہ نے اولاد دی تو وہ شیطانی اثرات سے محفوظ رہے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18036
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٤١)، ومسلم (١٤٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18036، ترقيم محمد عوامة 17437)
حدیث نمبر: 18037
١٨٠٣٧ - حدثنا ابن إدريس عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد مولى أبي أسيد قال: تزوجت وأنا مملوك فدعوت نفرًا من أصحاب النبي ﷺ فيهم ابن مسعود وأبو ذر وحذيفة قال: وأقيمت الصلاة قال: فذهب أبو ذر ليتقدم فقالوا: إليك (قال) (١): أو كذلك؟ قالوا: نعم! قال: (فتقدمت) (٢) (بهم) (٣) وأنا عبد مملوك وعلموني (فقالوا) (٤): إذا (أُدخل) (٥) عليك أهلك فصل (٦) ركعتين ثم (سل) (٧) اللَّه (تعالى) (٨) من خير ما دخل عليك، وتعوذ به من شره ثم شأنك وشأن أهلك (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسید کے مولیٰ حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ جب میں نے شادی کی تو میں غلام تھا۔ میں نے نبی ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت کی دعوت کی۔ ان میں حضرت ابن مسعود، حضرت ابو ذر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ م بھی تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہاگے ہونے لگے تو ساتھیوں نے ان سے فرمایا آپ آگے بڑھیں اور مجھے نماز پڑھانے کو کہا۔ میں غلام تھا پھر بھی میں نے نماز پڑھائی۔ پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا جب تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ تو دو رکعت نماز پڑھو، پھر اللہ تعالیٰ سے خیر مانگو اور شر سے پناہ چاہو۔ پھر اپنی بیوی کے ساتھ مصروف ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18037
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18037، ترقيم محمد عوامة 17438)
حدیث نمبر: 18038
١٨٠٣٨ - حدثنا الحسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب ⦗٤٧٩⦘ عن ابن أخي علقمة (بن قيس عن علقمة) (١) (أن) (٢) ابن مسعود كان (إذا) (٣) غشي أهله فأنزل قال: اللهم لا تجعل للشيطان فيما رزقتنا نصيبًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ جب اپنی اہلیہ کے ساتھ مباشرت فرماتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اللہ ! جو اولاد تو ہمیں عطا کرے شیطان کو اس پر تسلط نہ دینا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18038
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18038، ترقيم محمد عوامة 17439)
حدیث نمبر: 18039
١٨٠٣٩ - حدثنا جرير عن مغيرة عن أم (موسى) (١) قالت: كانت لا تزف بالمدينة جارية إلى زوجها حتى يُمر بها في المسجد فتصلي فيه -قال أبو بكر: قال: أراه قال: ركعتين- وحتى يمر بها على أزواج النبي ﷺ فيدعون لها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام موسیٰ فرماتی ہیں کہ مدینہ میں جب کسی لڑکی کو رخصت کیا جاتا تو پہلے اس کو مسجد میں لاکر دو رکعت نماز پڑھائی جاتی اور نبی پاک ﷺ کی ازواج کے پاس لائی جاتی تاکہ وہ اس کے لئے دعا فرمائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18039
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18039، ترقيم محمد عوامة 17440)
حدیث نمبر: 18040
١٨٠٤٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه يقال له أبو جرير فقال: أني تزوجت جارية شابة (وإني) (١) أخاف أن (تفركني) (٢) قال: فقال عبد اللَّه: إن الألف من اللَّه والفرك من الشيطان، يريد أن يكره إليكم ما أحل اللَّه لكم، فإذا أتتك (فأمرها) (٣) أن تصلي (وراءك) (٤) ركعتين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ ابوجریر نامی ایک صاحب حضرت عبد اللہ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک جوان لڑکی سے شادی کی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بیزار نہ ہوجائے۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ محبت اللہ طرف سے ہے اور نفرت شیطان کی طرف سے ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو تمہارے لئے ناپسندیدہ بنادے۔ جب وہ تمہارے پاس آئے تو اسے حکم دو کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعات نما زپڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18040
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18040، ترقيم محمد عوامة 17441)