کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نکاح کی بنیاد کن چیزوں کو بنانا چاہئے؟
حدیث نمبر: 18032
١٨٠٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عبدة بن سليمان عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء عن جابر بن عبد اللَّه عن النبي ﷺ (٢) قال: "إن المرأة تنكح على دينها ومالها وجمالها (فعليك) (٣) بذات (الدين) (٤) تربت يداك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے۔ تمہیں چاہئے کہ لازمی طور پر دین دار عورت سے شادی کرو ورنہ نقصان اٹھاؤگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18032
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٧١٥)، كتاب النكاح (٥٤)، وأحمد (١٤٢٣٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18032، ترقيم محمد عوامة 17433)
حدیث نمبر: 18033
١٨٠٣٣ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثني محمد بن موسى المدني قال: أخبرني (سعد) (١) بن إسحاق عن (عمته) (٢) عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (تنكح المرأة) (٣) على إحدى خصال ثلاث: تنكح المرأة على مالها، على ⦗٤٧٧⦘ جمالها، تنكح على دينها، عليك بذات الدين والخلق تربت يمينك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت سے تین خصوصیات میں سے کسی ایک کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے : یا تو اس کے مال کی وجہ سے یا خوبصورتی کی وجہ سے یا دین داری کی وجہ سے۔ تمہیں چاہیے کہ شادی کی بنیاد دینداری اور اخلاق کو بناؤ ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18033
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ خالد بن مخلد صدوق، وعمة سعد هي زينب بنت كعب بن عجرة زوجة أبي سعيد الخدري صحح حديثها جماعة، انظر: المستدرك ٢/ ٢٢٦ (٢٨٣٣) و ٤/ ٣٤٣ (٧٨٥٤)، وسنن الترمذي (١٢٠٤)، وموارد الظمآن (١٣٣٢)، وفتح الباري ١٠/ ٢٥، وقال ابن حبان في الثقات ٤/ ٢٧١: "ولها صحبة"، وانظر: الإصابة ٧/ ٦٧٩، أخرجه أحمد (١١٧٦٥)، وابن حبان (٤٠٣٧)، والحاكم ٢/ ١٦١، والدارقطني ٣/ ٣٠٣، وعبد بن حميد (٩٨٨)، والبزار (١٤٠٣/ كشف)، وأبو يعلى (١٠١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18033، ترقيم محمد عوامة 17434)
حدیث نمبر: 18034
١٨٠٣٤ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن يحيى بن جعدة (رفعه) (١) قال: تنكح المرأة على دينها وخلقها ومالها وجمالها، (أين) (٢) بك عن ذات الخلق والدين! تربت يمينك! (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت سے اس کے دین، اخلاق، مال یاجمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے۔ تمہیں چاہئے کہ شادی کی بنیاد دینداری اور اخلاق کو بناؤ ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18034
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ يحيى تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18034، ترقيم محمد عوامة 17435)
حدیث نمبر: 18035
١٨٠٣٥ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن مجاهد عن يحيى بن جعدة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تنكح المرأة على مالها وعلى حسبها وعلى جمالها وعلى دينها فعليك بذات الدين، تربت يمينك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت سے مال، خاندان، جمال یا دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے۔ تمہیں چاہئے کہ دینداری کو بنیاد بنا کر نکاح کرو ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18035
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18035، ترقيم محمد عوامة 17436)