حدیث نمبر: 18025
١٨٠٢٥ - حدثنا أبو بكر (قال: (نا) (١) ابن) (٢) عيينة عن عمرو (عن) (٣) يحيى ابن جعدة عن النبي ﷺ قال: "خير فائدة (استفادها) (٤) المسلم بعد الإسلام (٥) امرأة جميلة، (تسره) (٦) إذا نظر إليها وتطيعه إذا أمرها وتحفظه إذا غاب عنها في ماله (ونفسها) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسلام کے بعد مسلمان کے سب سے زیادہ فائدے والی چیزوہ خوبصورت عورت ہے جسے آدمی دیکھے تو خوش ہوجائے، جب وہ اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور وہ جب وہ سفر میں ہو تو اس کے مال اور عزت کی حفاظت کرے۔
حدیث نمبر: 18026
١٨٠٢٦ - حدثنا ابن علية عن يونس عن معاوية بن قرة عن أبيه قال: قال عمر: ما استفاد رجل -أو قال عبد- بعد إيمان باللَّه خيرًا من امرأة حسنة الخلق ودود ولود وما استفاد رجل بعد الكفر باللَّه شرًا من امرأة سيئة الخلق حديدة اللسان ⦗٤٧٤⦘ ثم قال: إن منهن غنمًا لا يحذى منه وإن منهن (غلالًا يفدى) (١) منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد آدمی کو اچھے اخلاق والی، زیادہ محبت کرنے والی اور بچوں کو جنم دینے والی عورت سے بڑھ کر خیر عطا نہیں ہوئی۔ اور کفر کے بعد آدمی کو برے اخلاق والی اور تیز زبان والی بیوی سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں ملی۔ بعض عورتیں ایسی نعمت ہیں جن سے بےرغبتی نہیں رکھی جاسکتی اور بعض عورتیں ایسی مصیبت ہیں کہ ان سے بچا نہیں جاسکتا۔
حدیث نمبر: 18027
١٨٠٢٧ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن أبزى قال: مثل المرأة الصالحة عند الرجل كمثل التاج (المخوص) (١) بالذهب على رأس الملك، ومثل المرأة السوء عند الرجل الصالح مثل الحمل الثقيل على الشيخ الكبير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نیک بیوی کی مثال سونے سے مزین اس تاج کی ہے جو کسی بادشاہ کے سر پر ہو اور نیک مرد کی بری بیوی کی مثال اس بھاری بوجھ کی سی ہے جو کسی بوڑھے کی کمر پر ہو۔
حدیث نمبر: 18028
١٨٠٢٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن شعبة عن (فراس) (١) عن الشعبي عن أبي (بردة) (٢) عن أبي موسى (قال) (٣): ثلاثة يدعون فلا يستجاب لهم: رجل (آتى) (٤) سفيها ماله وقال اللَّه ﵎: ﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ﴾ [النساء: ٥]، ورجل كانت عنده امرأة سيئة الخلق فلم يطلقها أو لم يفارقها ورجل كان له على رجل حق فلم يشهد عليه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین لوگ ایسے ہیں جو بلاتے ہیں لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی بیوقوف کے پاس مال رکھوایا ہو، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : تم اپنا مال بیوقوفوں کے پاس مت رکھواؤ۔ دوسرا وہ آدمی جس کے نکاح میں کوئی بداخلاق عورت ہو اور وہ اسے طلاق نہ دے اور نہ اس سے جدائی اختیار کرے۔ تیسرا وہ آدمی جس کا حق کسی آدمی پر لازم ہو لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 18029
١٨٠٢٩ - حدثنا ابن فضيل عن أبي نصر عبد اللَّه بن عبد الرحمن عن هلال بن يساف عن عبد اللَّه بن عمرو قال: ألا أخبركم بالثلاث الفواقر! (قال) (١): وما هن؟ قال: إمام جائر، إن أحسنت لم يشكر وإن أسأت لم يغفر، وجار سوء إن ⦗٤٧٥⦘ رأى حسنة غطاها وإن رأى سيئة أفشاها، وامرأة السوء إن شهدتها (غاظتك) (٢) وإن غبت عنها خانتك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں تین مصیبتوں کے بارے میں نہ بتاؤں : ایک وہ ظالم سلطان کہ اگر تم اچھا کام کرو تو وہ تمہارا شکریہ ادا نہ کرے اور اگر غلطی کرو تو وہ تمہیں معاف نہ کرے۔ دوسرا برا پڑوسی، اگر تمہاری اچھائی دیکھے تو چھپا دے اور اگر برائی دیکھے توافشاء کردے۔ تیسری ایسی بری بیوی کہ اگر تم موجود ہو تو تمہیں غصہ دلائے اور اگر تم غیر موجود ہو تو تمہارے ساتھ خیانت کرے۔
حدیث نمبر: 18030
١٨٠٣٠ - حدثنا جرير عن مغيرة عن جعدة بن هبيرة، كان إذا زوج شيئًا من بناته خلا بها فينهاها عن سيء الأخلاق وأمرها بأحسنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جعدہ بن ہبیرہ رحمہ اللہ کا معمول تھا کہ جب وہ اپنی کسی بیٹی کی شادی کراتے تو اسے تنہائی میں نصیحت فرماتے بری عادات سے بچنے کا حکم دیتے اور اچھے اخلاق کا حکم دیتے۔
حدیث نمبر: 18031
١٨٠٣١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (نا) (١) (٢) شيبان قال: (أنا) (٣) عبد الملك ابن عمير عن زيد بن عقبة عن سمرة بن جندب قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: النساء ثلاثة: (امرأة) (٤) هينة (لينة) (٥) عفيفة مسلمة (ودود) (٦)، ولود تعين أهلها على الدهر ولا تعين الدهر على أهلها وقل ما (يجدها) (٧)، ثانية: امرأة عفيفة مسلمة إنما هي وعاء للولد ليس عندها غير ذلك، ثالثة: غل قمل يجعلها اللَّه في عنق من يشاء (٨) لا ينزعها غيره، الرجال ثلاثة: رجل عفيف مسلم عاقل يأتمر في الأمور إذا أقبلت و (تشبهت) (٩) فإذا وقعت (خرج) (١٠) منها برأيه، ورجل ⦗٤٧٦⦘ عفيف مسلم ليس له رأي فإذا وقع الأمر أتى ذا الرأي والمشورة فشاوره واستأمره ثم نزل عند أمره، ورجل (جائر (بائر)) (١١) (١٢) لا يأتمر رشدًا ولا يطيع مرشدًا (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتیں تین قسم کی ہیں : ایک وہ اچھے مزاج والی، نرم طبیعت والی، پاکدامن، مسلمان، محبت کرنے والی، اولاد کو جنم دینے والی بیوی جو اپنے خاوند کی ہر حال میں معاونت کرے اور مصیبتوں پر شکوہ نہ کرے۔ لیکن ایسی عورت بہت کم ملتی ہے۔ دوسری وہ پاکدامن اور مسلمان عورت، جو بچوں کی تربیت کرے اور اسے بچوں کے علاوہ کوئی کام نہ ہو۔ تیسری وہ عورت جو بدمزاج اور بدفطرت ہو۔ اللہ تعالیٰ ایسی عورت جس کے گلے میں چاہے ڈال دیتا ہے اور اسے اللہ کے سوا کوئی ٹال نہیں سکتا۔ مردوں کی بھی تین قسمیں ہیں : ایک وہ پاکدامن مسلمان سمجھد ار مردجوہر طرح کے معاملات کی فہم رکھتا ہو، اگر کسی مشکل میں مبتلاہو تو اپنی دانائی کی وجہ سے اس سے نکل جائے۔ دوسرا وہ پاکدامن مسلمان مرد جو خود تو صاحب الرائے نہ ہو لیکن جب کوئی معاملہ پیش آئے تو سمجھدار اور صاحب الرائے سے مشورہ کرے اور اس کے مشورے پر عمل کرے اور تیسرا وہ نادان اور بیوقوف شخص جو نہ خود صاحب الرائے ہو نہ کسی سمجھدار سے مشورہ کرے اور نہ کسی خیر خواہ کی اطاعت کرے۔