حدیث نمبر: 17992
١٧٩٩٢ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن (فراس عن الشعبي) (١) عن مسروق عن عبد اللَّه أنه سئل عن رجل تزوج امرأة فمات عنها ولم يدخل بها ولم يفرض لها صداقًا فقال عبد اللَّه: لها الصداق ولها الميراث وعليها العدة فقال (معقل) (٢) بن يسار (٣): شهدت رسول اللَّه ﷺ (قضى) (٤) (في بروع بنت واشق) (٥) مثل ذلك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی عورت سے شادی کرے، نہ اسے مہر دے اور نہ اس سے دخول کرے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت کو پورا مہر ملے گا، اسے میراث ملے گی اور اس پر پوری عدت واجب ہوگی۔ حضرت معقل بن سنان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 17993
١٧٩٩٣ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة ⦗٤٦١⦘ [عن عبد اللَّه (نحوًا) (١) من حديث ابن مهدي عن (سفيان عن) (٢) (فراس) (٣)] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 17994
١٧٩٩٤ - [حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه بنحو حديث ابن مهدي عن سفيان عن فراس] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 17995
١٧٩٩٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع (أن) (١) ابن عمر (زوج) (٢) ابنًا له امرأة من أهله فتوفي قبل أن يدخل بها ولم يسم لها صداقًا فطلبوا إلى ابن عمر الصداق (فقال: ليس) (٣) لها [(صداق، فأبوا أن يرضوا) (٤) بذلك فجعلوا بينهم ⦗٤٦٢⦘ زيد بن ثابت فأتوه فقال: ليس لها صداق] (٥) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے کی شادی کرائی۔ ان کا انتقال مہر کے مقرر کرنے سے پہلے اور دخول کرنے سے پہلے ہوگیا، لڑکی والوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مہر کا مطالبہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے لئے کوئی مہر نہیں ہے، انہوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ثالث بنایا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس عورت کو مہر نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 17996
١٧٩٩٦ - حدثنا ابن علية عن ابن عوف عن ابن سيرين قال: قال زيد بن ثابت: ترث وتعتد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ وارث بھی ہوگی اور عدت بھی گزارے گی۔
حدیث نمبر: 17997
١٧٩٩٧ - حدثنا ابن عيينة عن (عمرو) (١) عن أبي الشعثاء وعطاء في الذي (يفوض) (٢) إليه فيموت قبل أن يفرض قالا: لها الميراث وليس لها صداق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوشعثائ رحمہ اللہ اور حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر نکاح کے بعد مہر کی ادائیگی سے پہلے کسی کا انتقال ہوجائے تو عورت کو میراث ملے گی مہر نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 17998
١٧٩٩٨ - حدثنا ابن عيينة عن (عطاء) (١) بن السائب عن عبد خير (يُرَى) (٢) (أنه) (٣) عن علي قال: لها الميراث ولا صداق لها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسے میراث ملے گی مہر نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 17999
١٧٩٩٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر (عن) (١) داود عن الشعبي أن رجلَّا بالمدينة تزوج امرأة فلم يفرض لها ولم يدخل بها قالوا: لها الميراث ولا مهر لها. - وقال مسروق: لا يكون ميراثًا حتى يكون قبله مهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور اس کے لئے مہر مقرر کرنے اور دخول سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا۔ تو لوگوں نے کہا کہ اسے میراث ملے گی مہر نہیں ملے گا۔ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میراث اس وقت تک نہیں ملتی جب تک اس سے پہلے مہر نہ ہو۔
حدیث نمبر: 18000
١٨٠٠٠ - حدثنا أبو خالد (١) عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال: لها نصف الصداق أو الصداق، (٢) شك أبو بكر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسے آدھا مہر ملے گا۔ یا فرمایا کہ اسے پورا مہر ملے گا۔ (راوی ابوبکر کو شک ہے)
حدیث نمبر: 18001
١٨٠٠١ - حدثنا ابن أبي زائدة عن داود عن الشعبي عن علقمة قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إن رجلًا منا تزوج امرأة ولم يفرض لها ولم (يجمعها) (١) حتى مات فقال ابن مسعود: ما سئلت عن شيء منذ فارقت النبي ﷺ أشد علي من هذا، سلوا غيري، فترددوا فيها شهرًا (قال) (٢) فقال: من أسأل وأنتم (أجلة) (٣) أصحاب محمد بهذا البلد؟ فقال: سأقول فيها برأيي فإن يكن صوابًا فمن اللَّه، وإن يكن خطأ فمني و (من) (٤) الشيطان، أرى أن لها مهر نسائها (٥) لا وكس ولا شطط، ولها الميراث وعليها عدة المتوفى عنها زوجها، فقال ناس من (أشجع) (٦): نشهد أن رسول اللَّه ﷺ (٧) قضى مثل الذي قضيت في امرأة منا يقال لها: (بروع) (٨) ابنة ⦗٤٦٤⦘ واشق قال (٩): فما رأيت ابن مسعود فرح بشيء ما فرح يومئذ به (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور اس کا مہر مقرر کرنے سے پہلے اور اس سے جماع کرنے سے پہلے انتقال کرگیا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور ﷺ کے وصال کے بعد اب تک مجھ سے اتنا مشکل سوال نہیں کیا گیا، تم کسی اور سے پوچھ لو، لوگ ایک ماہ ادھر ادھر سوال کرتے پھرتے رہے لیکن کسی نتیجہ پر نہ پہنچے۔ چناچہ وہ آدمی پھر حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ آپ اس شہر میں محمد ﷺ کے صحابہ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، آپ ہی بتا دیجئے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے بات کروں گا، اگر ٹھیک ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اسے اس کے خاندان کی عورت کے برابر مہر ملے گا نہ کم نہ زیادہ، اور اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر اس عورت کی عدت لازم ہوگی جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ سن کر بنو اشجع کے لوگ کہنے لگے کہ ہم گواہی دیتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جتنا خوش دیکھا اتنا خوش میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 18002
١٨٠٠٢ - حدثنا أبو أسامة عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع قال: تزوج ابن لعبد اللَّه ابن عمر بنتًا (لعبيد اللَّه) (٢) بن عمر، (و) (٣) كانت أمها أسماء بنت زيد بن الخطاب فتوفي ولم يكن فرض لها صداقًا فطلبوا منه الصداق والميراث فقال ابن عمر: لها الميراث، ولا صداق لها، فأبوا ذلك على ابن عمر فجعلوا بينهم زيد بن ثابت فقال زيد (٤): لها الميراث ولا صداق لها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی سے شادی کی۔ اس لڑکی کی والدہ کا نام اسماء بنت زید بن خطاب تھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس بیٹے کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی انتقال ہوگیا۔ لڑکی والوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مہر اور میراث کا مطالبہ کیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گا۔ لوگوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس بات کا انکار کیا تو انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ثالث بنایا تو حضرت زید نے فرمایا کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گی۔
حدیث نمبر: 18003
١٨٠٠٣ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن في التي يتوفى عنها زوجها قبل أن يفرض لها وقبل أن يدخل بها: إن لها صداق نسائها، (ويحدث) (١) بذلك (عن) (٢) النبي ﷺ (٣) (وعدة) (٤) المتوفى ولها الميراث (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عورت جس کا خاوند مہر کی تقرری اور شرعی ملاقات سے پہلے انتقال کرجائے اسے اپنے خاندان کی دوسری عورتوں کے برابر مہر ملے گا۔ وہ اس بات کو حضور ﷺ کے حوالے سے بیان کیا کرتے تھے۔ وہ عورت اس عورت کی طرح عدت گزارے گی جس کا خاوند فوت ہوجائے اور اسے میراث بھی ملے گی۔
حدیث نمبر: 18004
١٨٠٠٤ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن (عمرو) (١) بن مرة عمن أخبره عن علي قال: لها الميراث ولا صداق لها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 18005
١٨٠٠٥ - حدثنا عبدة عن عطاء بن السائب عن عبد خيرعن علي قال: لها الميراث ولا صداق لها (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس لڑکی کو میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گا۔