کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کوجنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
حدیث نمبر: 17974
١٧٩٧٤ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن أبي السنابل قال: وضعت سبيعة بنت الحارث حملها بعد وفاة زوجها ببضع وعشرين ليلة فلما تعلت من نفاسها (تشوفت فعيب) (٢) ذلك عليها وذكر أمرها للنبي ﷺ فقال: "إن تفعل فقد مضى أجلها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سنابل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سبیعہ بنت حارث نے اپنے خاوند کی وفات کے بیس اور کچھ دن بعد بچے کو جنم دیا۔ جب وہ نفاس سے پاک ہوئیں تو انہوں نے زیب وزینت اختیار کرلی۔ انہیں اس بات پر برا بھلا کہا گیا، جب اس بات کا حضور ﷺ کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو ٹھیک ہے، کیونکہ ان کی عدت گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17974
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17974، ترقيم محمد عوامة 17376)
حدیث نمبر: 17975
١٧٩٧٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن (يحيى) (١) بن سعيد عن سليمان بن (يسار) (٢) عن أبي سلمة قال: كنت أنا وابن عباس وأبو هريرة فتذاكرنا: الرجل يموت عن المرأة فتضع بعد وفاته (بيسير) (٣) فقلت: إذا وضعت فقد حلت، (وقال) (٤) ابن عباس: أجلها آخر الأجلين (فتراجعا) (٥) بذلك، فقال أبو هريرة: أنا مع ابن أخي (يعني) (٦) أبا سلمة فبعثوا كريبًا مولى ابن عباس إلى أم سلمة فقالت: إن سبيعة الأسلمية وضعت بعد وفاة زوجها بأربعين ليلة وإن رجلًا من بني عبد الدار يكنى أبا السنابل خطبها وأخبرها أنها قد حلت، فأرادت أن تتزوج غيره، فقال لها أبو السنابل: (إنك) (٧) لم (تحلين) (٨) فذكرت ذلك سبيعة لرسول اللَّه ﷺ فأمرها أن تتزوج (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ما ایک مجلس میں تھے۔ ہمارے درمیان مذاکرہ ہوا کہ اگر ایک عورت کا خاوند مرجائے اور وہ عورت خاوند کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد بچے کو جنم دے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہوگا ؟ میں نے کہا کہ اس کی عدت مکمل ہوجائے گی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وضع حمل اور چار مہینے دس دن میں سے جو زیادہ ہو وہ اس کی عدت ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو اپنے بھائی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس مسئلے کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے اپنے خاوند کی وفات کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دیا۔ بچے کی پیدائش کے بعد بنو عبد الدار کے ایک آدمی جن کی کنیت ابو سنابل تھی انہوں نے سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو نکاح کا پیغام دیا اور ان سے کہا کہ آپ کی عدت مکمل ہوچکی ہے۔ سبیعہ نے کسی اور سے نکاح کا ارادہ کیا تو ابوسنابل نے کہا کہ تمہاری عدت مکمل نہیں ہوئی۔ سبیعہ نے اس بات کا حضور ﷺ سے تذکرہ کیا تو آپ نے انہیں شادی کرنے کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17975
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٠٩)، ومسلم (١٤٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17975، ترقيم محمد عوامة 17377)
حدیث نمبر: 17976
١٧٩٧٦ - حدثنا عبدة عن هشام (عن أبيه) (١) عن المسور أن سبيعة وضعت بعد وفاة زوجها بشهر فأتت النبي ﷺ (٢) [فأمرها النبي ﵇ (٣) ⦗٤٥٥⦘ أن (تزوج) (٤)] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سبیعہ نے اپنے خاوند کی وفات کے ایک مہینے بعد بچے کو جنم دیا تو حضور ﷺ نے انہیں شادی کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17976
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٢٠)، وأحمد (١٨٩١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17976، ترقيم محمد عوامة 17378)
حدیث نمبر: 17977
١٧٩٧٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري (عن سالم) (١) قال (٢): سمعت رجلًا من الأنصار يحدث (٣) ابن عمر يقول: سمعت أباك يقول: لو وضعت (المتوفى) (٤) عنها زوجها ذا بطنها وهو على السرير فقد حلت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک انصاری نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ میں نے آپ کے والد کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر حاملہ عورت کا خاوند مرنے کے بعد جنازے کی چارپائی پر ہو اور عورت بچے کو جنم دے دے تو اس عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17977
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ والظاهر أن الأنصاري صحابي، أخرجه سعيد بن منصور ١/ ٣٩٧ (١٥٢١)، والبيهقي ٧/ ٤٣٠، وبنحوه مالك (١٢٢٦)، والشافعي في المسند ص ٢٩٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17977، ترقيم محمد عوامة 17379)
حدیث نمبر: 17978
١٧٩٧٨ - حدثنا وكيع عن عبيد اللَّه بن عبد الرحمن بن موهب عن صالح بن كيسان عن عمر وعثمان قالا: إذا وضعت وهو في جانب البيت في (أكفانه) (١) فقد حلت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ جب خاوند کفن میں ملبوس گھر میں پڑا ہو اور اس کی بیوی بچے کو جنم دے دے تو عدت مکمل ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17978
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، ابن موهب ضعيف، وابن كيسان عن عمر منقطع.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17978، ترقيم محمد عوامة 17380)
حدیث نمبر: 17979
١٧٩٧٩ - حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن (١) إسحاق عن الزهري عن سعيد ابن المسيب أن عمر استشار علي بن أبي طالب (٢) وزيد بن ثابت قال زيد: قد ⦗٤٥٦⦘ حلت وقال علي: أربعة أشهر وعشرًا قال زيد: (أرأيت) (٣) إن (كانت يئيسًا) (٤) قال علي: فآخر الأجلين، قال عمر: لو وضعت ذا بطنها وزوجها على نعشه لم يدخل حفرته لكانت قد حلت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بچے کو جنم دیتے ہی عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ حضرت زید نے فرمایا کہ اگر عورت ایسی عمر کو پہنچ چکی ہو جس میں حمل اور ولادت کا تصور نہیں ہوتا تو اس کی عدت کیا ہوگی ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دونوں میں سے زیادہ طویل مدت عدت کی مدت ہوگی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر حاملہ کے خاوند کی نعش کو قبر میں نہ اتارا گیا ہو اور وہ بچے کو جنم دے دے تو اس عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17979
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17979، ترقيم محمد عوامة 17381)
حدیث نمبر: 17980
١٧٩٨٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق قال: قال عبد اللَّه: واللَّه (لمن) (١) شاء (لقاسمته) (٢) لنزلت سورة النساء القصرى بعد: ﴿أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [البقرة: ٢٣٤] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چاہے تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ چھوٹی سورة النسائ (سورۃ الطلاق) (جس میں عدت کے وضع حمل ہونے کا تذکرہ ہے) قرآن مجید کی آیت { أَرْبَعَۃ أَشْھُر وَّعَشْرًا } کے بعد نازل ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17980
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17980، ترقيم محمد عوامة 17382)
حدیث نمبر: 17981
١٧٩٨١ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة أنه قال في المتوفى عنها زوجها وهي حامل: إذا وضعت حلت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو بچہ جنتے ہی اس کی عدت مکمل ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17981
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17981، ترقيم محمد عوامة 17383)
حدیث نمبر: 17982
١٧٩٨٢ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا طلق الرجل امرأته وهي حامل أو توفي عنها فإن أجلها أن تضع حملها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حاملہ کو طلاق دے دے یا اس کا خاوند فوت ہوجائے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17982
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17982، ترقيم محمد عوامة 17384)
حدیث نمبر: 17983
١٧٩٨٣ - (حدثنا) (١) وكيع عن إسماعيل عن الشعبي قال: قال عبد اللَّه: أجل كل حامل أن تضع حملها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے زیادہ مدت اس کی عدت ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17983
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17983، ترقيم محمد عوامة 17385)
حدیث نمبر: 17984
١٧٩٨٤ - قال: وكان علي يقول: آخر الأجلين (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17984
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17984، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 17985
١٧٩٨٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم -ولم يذكر فيه مسروق- عن علي أنه (كان) (١) يقول: آخر الأجلين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے زیادہ مدت اس کی عدت ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17985
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17985، ترقيم محمد عوامة 17386)
حدیث نمبر: 17986
١٧٩٨٦ - حدثنا ابن إدريس عن مطرف عن عمرو بن (سالم) (١) قال: قال أبي ابن كعب: يا رسول اللَّه! إن عددًا من عدد النساء لم يذكر في كتاب اللَّه، الصغار (والكبار) (٢) وأولات الأحمال فأنزل اللَّه تعالى: ﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ (مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ) (٣) وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ کچھ عورتوں کی عدت قرآن مجید میں بیان نہیں کی گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی { وَاللاَّئِی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِنْ نِسَائِکُمْ إنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَثَۃُ أَشْہُرٍ وَاللاَّئِی لَمْ یَحِضْنَ وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ }(الطلاق : ٤)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17986
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمرو تابعي، أخرجه الحاكم ٢/ ٤٩٢، وابن جرير ٢٨/ ١٤١، والبيهقي ٧/ ٤٢٠، وإسحاق كما في المطالب (٣٧٥٨)، والثعلبي ٩/ ٣٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17986، ترقيم محمد عوامة 17387)
حدیث نمبر: 17987
١٧٩٨٧ - حدثنا ابن إدريس عن أشعث عن ابن سيرين قال: كنت في حلقة فيها عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: فقال: آخر الأجلين قال: فذكرت حديث عبد اللَّه ابن عتبة عن سبيعة قال: (فضمز لي بعض أصحابه) (١)، قال: فقلت: إني (لجريء) (٢) ⦗٤٥٨⦘ على عبد اللَّه (بن) (٣) عتبة إن كذبت عليه وهو ناحية (المسجد) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے حلقے میں تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ حاملہ کی عدت دونوں میں سے زیادہ طویل مدت ہے۔ اس پر میں نے حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی تو ان کے شاگرد مجھے گھورنے لگے۔ میں نے کہا کہ میں حضرت عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔ جب کہ انہوں نے مسجد کے ایک گوشے میں اس کو بیان کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17987
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17987، ترقيم محمد عوامة 17388)
حدیث نمبر: 17988
١٧٩٨٨ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن (١) طاوس عن ابن عباس في (الحامل) (٢) المتوفى عنها زوجها: عدتها آخر الآجلين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت دونوں مدتوں میں سے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17988
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ ليث ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17988، ترقيم محمد عوامة 17389)
حدیث نمبر: 17989
١٧٩٨٩ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه (بن عبد اللَّه) (١) عن أبيه قال: وضعت سبيعة بعد وفاة زوجها (بعشرين) (٢) (أو بشهر) (٣) أو نحو ذلك فمر بها أبو السنابل بن بعكك فقال: قد تصنعت (للأزواج) (٤)؟ لا! حتى (يأتي عليك) (٥) أربعة أشهر وعشرًا، فاتت النبي ﷺ فذكرت ذلك (له) (٦) فقال: (قد (حللت) (٧) للأزواج" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیداللہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خاوند کی وفات کے بیس دن یا ایک مہینہ بعد بچے کو جنم دیا۔ ان کے یہاں ابو سنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو انہوں نے کہا کہ کیا تم شادی کے لئے تیار ہو ؟ چار مہینے دس دن تک شادی نہ کرنا۔ وہ حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور ساری بات بیان کی تو آپ نے فرمایا کہ تم شوہروں کے لئے حلال ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17989
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، عبد اللَّه بن عتبة تابعي، وقد ورد من حديث الزهري عن عبيد اللَّه أن أباه كتب إلى عمر بن عبد اللَّه بن الأرقم عن سبيعة، أخرجه البخاري (٣٧٧٠)، ومسلم (١٤٨٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17989، ترقيم محمد عوامة 17390)
حدیث نمبر: 17990
١٧٩٩٠ - حدثنا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي عن مسروق وعمرو بن عتبة أنهما (كتبا) (١) إلى سبيعة بنت الحارث يسألانها عن أمرها فكتبت إليهما أنها وضعت بعد وفاة زوجها بخمسة وعشرين ليلة، فتهيأت (تطلب) (٢) (الخير) (٣) (فمر) (٤) بها أبو السنابل بن بعكك فقال: قد أسرعت، اعتدي آخر الأجلين أربعة أشهر وعشرًا، فأتيت النبي ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه! (٥) استغفر لي فقال: "وما ذلك؟ " فأخبرته الخبر فقال: "إن وجدت زوجًا صالحًا فتزوجي" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ اور حضرت عمرو بن عتبہ رحمہ اللہ نے حضرت سبیعہ بنت حارث رحمہ اللہ کو خط لکھا اور ان کے واقعے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ انہوں نے اپنے خاوند کی وفات کے پچیس دن بعد بچے کو جنم دیا تھا۔ پھر وہ خیر کی تلاش میں تیار ہوگئیں۔ ابو سنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو انہوں نے کہا کہ تم نے بہت جلدی کی، دونوں عدتوں میں سے زیادہ طویل مدت کو گزارو یعنی چار مہینے دس دن۔ پھر وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے لئے دعاء مغفرت فرمادیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا بات پیش آئی ؟ انہوں نے سارا قصہ سنایا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہیں اچھا خاوند ملے تو اس سے شادی کرلو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17990
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٤٨٤)، وأحمد (٢٧٤٣٥)، وأخرجه بنحوه البخاري (٥٣١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17990، ترقيم محمد عوامة 17391)
حدیث نمبر: 17991
١٧٩٩١ - حدثنا شبابة عن شعبة عن عبيد بن الحسن عن عبد الرحمن بن (معقل) (١) قال: شهدت عليًا وساله رجل عن امرأة توفي عنها زوجها وهي حامل قال: تتربصن أبعد الأجلين فقال (رجل: إن) (٢) ابن مسعود (يقول) (٣): (لتبتغي) (٤) (لنفسها) (٥)؛ فقال علي: إن فروخ لا يعلم) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھا، ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ جس حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کیا ہوگی ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دونوں میں سے زیادہ لمبی مدت کو عدت بنائے گی۔ ایک آدمی نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو وضع حمل پر عدت کے مکمل ہونے کا فتوی دیتے ہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ نہیں جانتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17991
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17991، ترقيم محمد عوامة 17392)