کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن مجید کی آیت {اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً} کی تفسیر
حدیث نمبر: 17777
١٧٧٧٧ - حدثنا أبو بكر (عن) (١) (ابن) (٢) عيينة عن ابن شبرمة عن عكرمة: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً﴾ [النور: ٣]، لا يزني الزاني إلا (بزانية) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زانی زانیہ سے ہی زنا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 17778
١٧٧٧٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾، قال: كان يقال (نسختها) (١) التي بعدها ﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ﴾ [النور: ٣٢]، قال: وكان يقال إنها من أيامي المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت { وَأَنْکِحُوا الأَیَامَی مِنْکُمْ } کی وجہ سے منسوخ ہے۔ اس سے مراد مسلمانوں کی بیوہ عورتیں ہیں۔
حدیث نمبر: 17779
١٧٧٧٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن (يعلى) (١) بن مسلم عن سعيد بن جبير قال: لا يزني إلا بزانية أو مشركة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ زانیہ یا مشرکہ سے زنا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 17780
١٧٧٨٠ - حدثنا غندر عن شعبة (عن) (١) إبراهيم بن المهاجر عن مجاهد قال: (سمعته) (٢) يقول: كن بغايا في الجاهلية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو زمانہ جاہلیت میں فاحشہ تھیں۔
حدیث نمبر: 17781
١٧٧٨١ - حدثنا (عبدة) (١) (بن) (٢) سليمان عن هشام بن عروة عن عاصم بن المنذر قال: سألت عروة عن قوله: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾، قال: كن نساء بغايا في الجاهلية لهن رايات يعرفن بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو زمانہ جاہلیت میں فاحشہ تھیں۔ ان کے مخصوص جھنڈے ہوتے تھے جن سے یہ پہچانی جاتی تھیں۔
حدیث نمبر: 17782
١٧٧٨٢ - حدثنا وكيع عن إسماعيل (عن الشعبي) (١) قال: نساء كن يكرين أنفسهن في الجاهلية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد زمانہ جاہلیت کی وہ عورتیں ہیں جو جسم فروشی کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 17783
١٧٧٨٣ - حدثنا وكيع عن سلمة عن الضحاك في قوله: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ﴾، قال: لا يزني حين يزني إلا بزانية ولا تزني حين تزني إلا بزان مثلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کہ زنا کرنے والا زانیہ سے زنا کرتا ہے اور زنا کرنے والی زانی سے زنا کراتی ہے۔
حدیث نمبر: 17784
١٧٧٨٤ - حدثنا وكيع عن شعبة عن (يعلى) (١) بن مسلم عن سعيد بن جبير مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 17785
١٧٧٨٥ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن شعبة مولى ابن عباس عن ابن عباس قال: بغايا كن في الجاهلية يجعلن على أبوابهن رايات كرايات البياطرة، يأتيهن الناس، يعرفن بذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد زمانہ جاہلیت کی فاحشہ عورتیں ہیں جن کے دروازوں پر مویشی فروشوں کے مخصوص جھنڈے ہوتے تھے، اور لوگ ان کے پاس آتے تھے۔ جھنڈوں کے ذریعے لوگوں کو ان کا پتہ چلتا تھا۔
حدیث نمبر: 17786
١٧٧٨٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن عاصم بن المنذر عن عروة (١) نحوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 17787
١٧٧٨٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾، (يعني) (١) بالنكاح: يجامعها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں نکاح سے مراد مباشرت ہے۔
حدیث نمبر: 17788
١٧٧٨٨ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن خالد بن دينار عن الحارث عن إبراهيم قال: لا يجامعها إلا زان أو مشرك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زانیہ یا مشرکہ سے زانی اور مشرک ہی مباشرت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 17789
١٧٧٨٩ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان (التمار العصفري) (١) قال: سمعت سعيد ابن جبير يقول: كن بغايا بمكة قبل الإسلام فكان رجال يتزوجونهن فينفقن عليهم ما أصبن فلما جاء الإسلام تزوجهن رجال من أهل الإسلام فحرم رسول اللَّه ﷺ ذلك عليهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ عورتیں اسلام سے پہلے مکہ میں فحاشی کا دھندہ کرتی تھیں۔ لوگ ان سے شادی کرتے تھے اور ان پر خرچ کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو کچھ مسلمان مردوں نے بھی ان سے شادی کرنا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں سے نکاح کو حرام قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 17790
١٧٧٩٠ - حدثنا عفان عن حماد بن سلمة عن حميد عن إسحاق بن عبد اللَّه بن الحارث عن ابن عباس: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾، [قال: الزاني لا ⦗٤١٢⦘ (يزني) (١) إلا بزانية أو مشركة] (٢) ولكن اللَّه (كنى) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زانی کسی زانیہ یا مشرکہ سے ہی زنا کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بات کو کنایۃً بیان فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 17791
١٧٧٩١ - حدثنا شبابة عن ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد في قوله: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً﴾ بغايا (متعالنات) (١) كن في الجاهلية فقيل لهن: هذا حرام فأرادوا نكاحهن (فحرم) (٢) اللَّه عليهم نكاحهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد زمانہ جاہلیت میں جسم فروشی کا پیشہ کرنے والی عورتیں ہیں۔ ان عورتوں کو بتایا گیا کہ یہ حرام ہے تو انہوں نے نکاح کا ارادہ کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ان سے نکاح کو حرام قرار دیا۔