کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے
حدیث نمبر: 17619
١٧٦١٩ - حدثنا ابن عيينة عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي يزيد عن أبيه أن سباع بن ثابت تزوج ابنة رباح بن وهب وله ابن من غيرها ولها ابنة من غيره ففجر الغلام بالجارية فظهر بالجارية حمل فرفعا إلى عمر بن الخطاب فاعترفا فجلدهما و [حرص] (٢) أن يجمع بينهما فأبى الغلام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یزید کہتے ہیں کہ سباع بن ثابت نے رباح بن وہب کی بیٹی سے شادی کی۔ سباع کا کسی اور عورت سے ایک بیٹا تھا اور بنت رباح کی کسی اور خاوند سے ایک بیٹی تھی۔ اس لڑکے نے لڑکی سے زنا کیا اور لڑکی کو حمل ٹھہر گیا۔ یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو ان دونوں نے گناہ کا اعتراف کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوڑے لگوائے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان دونوں کا نکاح کردیا جائے لیکن اس لڑکے نے انکار کردیا۔
حدیث نمبر: 17620
١٧٦٢٠ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبي هاشم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في رجل وامرأة أصاب كل واحد منهما من الآخر حدا ثم أراد أن يتزوجها، قال: لا بأس! أوله سفاح وآخره نكاح (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی مرد وعورت باہم مبتلائے برائی ہوں اور ان پر حد بھی جاری ہو اور وہ شخص اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ، اس معاملے کی ابتداء برائی سے ہوئی اور انتہاء نکاح پر ہوگی۔
حدیث نمبر: 17621
١٧٦٢١ - حدثنا وكيع (عن إسماعيل) (١) عن الشعبي قال: أوله سفاح وآخره نكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس معاملے کی ابتداء برائی سے ہوئی اور انتہاء نکاح پر ہوگی۔
حدیث نمبر: 17622
١٧٦٢٢ - حدثنا وكيع (١) عن (أبي) (٢) (جناب) (٣) عن (بكير بن الأخنس) (٤) عن أبيه قال: قرأت من الليل: ﴿حم (١) عسق﴾ فمررت بهذه الآية ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ (عَنْ) (٥) عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا (تَفْعَلُونَ) (٦)﴾، فغدوت إلى عبد اللَّه أسأله عنها فأتاه رجل فسأله عن الرجل يفجر بالمرأة ثم يتزوجها فقرأ عبد اللَّه: ﴿(وَ) (٧) هُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ (عِبَادِهِ) (٨) وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ (٩) [الشورى: ١ - ٢، ٢٥].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اخنس فرماتے ہیں کہ ایک رات میں { حم عسق } سورت پڑھ رہا تھا، جب میں اس آیت پر پہنچا : وہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی لغزشات کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے۔ اس آیت نے میرے دل پر بہت اثر کیا، میں صبح اس بارے میں سوال کرنے کے لئے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا۔ اتنے میں ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے پھر اس سے شادی کرلے تو یہ کیسا ہے ؟ اس پر حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : : ” وہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی لغزشات کو معاف کرتا ہے “
حدیث نمبر: 17623
١٧٦٢٣ - حدثنا وكيع عن شريك عن عروة (بن) (١) (عبد اللَّه) (٢) بن (قشير) (٣) عن أبي الأشعث عن ابن عمر قال: أوله سفاح وآخره نكاح وأوله حرام وآخره حلال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس معاملے کی ابتداء برائی اور انتہاء نکاح ہے یا یہ فرمایا کہ اس کی ابتداء حرام اور انتہاء حلال ہے۔
حدیث نمبر: 17624
١٧٦٢٤ - حدثنا حفص عن أشعث عن الزهري أن رجلًا فجر بامرأة وهما بكران فجلدهما أبو بكر ونفاهما ثم (زوجها) (١) إياه بعد الحول (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ دو غیر شادی شدہ مرد وعورت نے زنا کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کردیا پھر ایک سال بعد ان دونوں کا نکاح کرادیا۔
حدیث نمبر: 17625
١٧٦٢٥ - حدثنا وكيع عن (هشام) (١) عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس أن يتزوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اس نکاح میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 17626
١٧٦٢٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: سأله رجل عن (رجل فجر بامرأة) (١)، (أيتزوجها) (٢)؟ قال: نعم! وتلا هذه الآية: ﴿(وَ) (٣) هُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ (وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ) (٤)﴾.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت علقمہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے اور پھر اس سے شادی کرلے تو ایسا کرنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، پھر قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی : : ” وہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی لغزشات کو معاف کرتا ہے “
حدیث نمبر: 17627
١٧٦٢٧ - حدثنا جرير عن (شيبة) (١) أبي نعامة قال: سئل سعيد بن جبير وأنا أسمع عن رجل فجر بامرأة، أيتزوجها؟ قال: (٢) أوله سفاح وآخره نكاح (أحلها) (٣) له ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے اور پھر اس سے شادی کرلے تو ایسا کرنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس معاملے کی ابتداء برائی اور انتہاء نکاح ہے اور مال نے اس عورت کو مرد کے لئے حلال کردیا۔
حدیث نمبر: 17628
١٧٦٢٨ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن جابر بن (زيد) (١) قال: سئل عن الرجل يفجر بالمرأة ثم يتزوجها، قال: هو أحق بها، هو أفسدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت جابر بن زید سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے اور پھر اس سے شادی کرلے تو ایسا کرنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ اس عورت کا زیادہ حق دار ہے کیونکہ اسی نے اسے خراب کیا ہے۔
حدیث نمبر: 17629
١٧٦٢٩ - حدثنا وكيع عن عمر بن الوليد عن عكرمة قال: لا بأس! هو بمنزلة رجل سرق نخلة ثم اشتراها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ اس نکاح کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس شخص کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص کھجور چوری کرے پھر اسے خرید لے۔
حدیث نمبر: 17630
١٧٦٣٠ - حدثنا وكيع عن سعيد بن حسان قال: سمعت حنظلة عن عكرمة قال: سألت سالمًا عنه فقال: لا بأس (به) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 17631
١٧٦٣١ - حدثنا (عبد الأعلى) (١) عن سعيد عن قتادة عن جابر بن عبد اللَّه قال: إذا تابا وأصلحا فلا بأس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب دونوں توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 17632
١٧٦٣٢ - حدثنا (عباد) (١) بن (عوام) (٢) عن داود عن يزيد بن أبي منصور أو ابن منصور عن صلة بن أشيم قال: لا بأس إن كانا تائبين؛ فاللَّه أولى بتوبتهما، وإن كانا زانيين فالخبيث على الخبيث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہ بن اشیم فرماتے ہیں کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ، اگر وہ دونوں توبہ کرلیں تو اللہ ان کی توبہ کو قبول کرنے والا ہے، اگر وہ بدکار ہیں تو بدکار ہی بدکار کے لائق ہے۔
حدیث نمبر: 17633
١٧٦٣٣ - حدثنا الثقفي عن يحيى بن سعيد قال: بلغني (أن) (١) عمر بن عبد العزيز سئل عن امرأة أصابت خطيئة ثم (رأى) (٢) منها خيرًا، أينكحها الرجل؟ فقال له: (عمر) (٣) (كما بلغني) (٤): (أتظن) (٥) (أني) (٦) (أنهاك) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیز سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک عورت کسی مرد سے مبتلاء گناہ ہو، پھر بعد میں اس عورت کے اعمال و افعال سے خیرکا صدور ہونے لگے تو کیا وہ اس مرد سے شادی کرسکتی ہے ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ میں اس سے منع کروں گا ؟ !
حدیث نمبر: 17634
١٧٦٣٤ - حدثنا ابن عيينة عن عبيد اللَّه بن أبي يزيد قال: سئل ابن عباس عن رجل زنى بامرأة فأراد أن يتزوجها، قال: الآن أصاب الحلال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابی یزید فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے اور پھر اس سے شادی کرلے تو ایسا کرنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا اب تو اسے حلال کا راستہ ملا ہے۔
حدیث نمبر: 17635
١٧٦٣٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عثمان بن الأسود عن مجاهد وعطاء (قالا) (١): إذا فجر الرجل بالمرأة فإنها تحل له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے تو اس عورت سے نکاح کرنا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 17636
١٧٦٣٦ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب وجابر بن عبد اللَّه (وسعيد) (٢) بن جبير في الرجل يفجر بالمرأة ثم يتزوجها قالوا: لا بأس بذلك إذا تابا وأصلحا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب ، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکرے اور پھر اس سے شادی کرلے تو اس اگر وہ دونوں توبہ کرکے زندگی بدل لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 17637
١٧٦٣٧ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) (عن سعيد) (٢) عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس في الرجل يفجر بالمرأة ثم يتزوجها، قال: (٣) أوله سفاح وآخره نكاح، أوله حرام وآخره حلال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے اور پھر اس سے شادی کرلے تو ایسا کرنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس کی ابتدا برائی اور انجام نکاح سے ہوا، اس کا اول حرام اور انتہا حلال ہے۔