حدیث نمبر: 17614
١٧٦١٤ - حدثنا أبو بكر عن ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن عطاء (قال) (١): يكره الجمع بين ابنتي العم لفساد بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کیا جائے کیونکہ اس سے دونوں کے درمیان فسا دہوگا۔
حدیث نمبر: 17615
١٧٦١٥ - حدثنا ابن عيينة عن (عمرو) (١) أن الحسن بن محمد أخبره أن ابنًا لعلي جمع بين ابنتي عم له قال: (فأدخلتا) (٢) عليه في ليلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادہ نے دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کیا اور ایک ہی رات میں وہ دونوں انہیں پیش کی گئیں۔
حدیث نمبر: 17616
١٧٦١٦ - حدثنا سهل بن يوسف عن (عمرو) (١) عن الحسن أنه كان يكره أن يجمع بين القرابة من أجل القطيعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قطعی رحمی کے اندیشے سے اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کیا جائے۔
حدیث نمبر: 17617
١٧٦١٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن (عمرو) (١) عن جابر بن زيد قال: سئل هل يصلح للمرأة أن تزوج على ابنة (عمها) (٢)؛ قال: تلك القطيعة ولا تصلح القطيعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت کے لئے اس کی چچا زاد بہن کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس شخص سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ قطع رحمی ہے جو کہ درست نہیں۔
حدیث نمبر: 17618
١٧٦١٨ - حدثنا ابن نمير عن سفيان (قال) (١): حدثني خالد الفأفاء عن عيسى ابن طلحة (٢) قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن (تنكح) (٣) المرأة على قرابتها (٤) مخافة القطيعة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع رحمی کے اندیشے سے کسی عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی قریبی رشتہ دار خاتون سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔