کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرائے اور اپنے لئے کسی چیز کی شرط لگائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 17263
١٧٢٦٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي أن رجلًا زوج ابنته على ألف دينار وشرط لنفسة ألف دينار فقضى عمر بن عبد العزيز للمرأة (بألفين) (١) دون الأب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرائی کہ ایک ہزار دینار بیٹی کو اور ایک ہزار دینار باپ کو ملیں گے۔ ان کا مقدمہ حضرت عمر بن عبدا لعزیز کے پاس آیا تو انہوں فرمایا کہ عورت کو دوہزار دینار ملیں گے اور باپ کو کچھ نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 17264
١٧٢٦٤ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة قال: إن كان هو الذي يُنكح فهو له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ نکاح کرانے والا ہے تو اسے اس کی لگائی گئی شرط ملے گی۔
حدیث نمبر: 17265
١٧٢٦٥ - حدثنا الثقفي عن مثنى عن عمرو بن شعيب عن عروة وسعيد قالا: أيما (امرأة) (١) أنكحت على صداق أو عدة لأهلها كان قبل عصمة النكاح فهو لها، وما كان من حباء لأهلها فهو لهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ اور حضرت سعید فرماتے ہیں کہ جس چیز کا تعلق مہر یا نکاح کے عقد سے ہو وہ تو عورت کو ملے گی اور اگر کوئی ہبہ یا تحفہ وغیرہ ہو تو وہ اس کے گھر والوں کو مل سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 17266
١٧٢٦٦ - حدثنا شريك عن (أبي إسحاق) (١) أن مسروقًا زوج ابنته فاشترط على زوجها عشرة الآف (سوى) (٢) المهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرائی کہ اس کا خاوند مہر کے علاوہ دس ہزاردینار دے گا۔
حدیث نمبر: 17267
١٧٢٦٧ - حدثنا ابن علية عن (أيوب) (١) قال: سمعت الزهري يقول: (للمرأة) (٢) ما استحل به فرجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ عورت کو وہ سب کچھ ملے گا جس کے عوض وہ خاوند کے لئے حلال ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 17268
١٧٢٦٨ - حدثنا أبو بكر عن الضحاك (بن مخلد) (١) عن ابن جريج عن عطاء ⦗٢٩٤⦘ قال: ما اشترط لأخيها (أو) (٢) (أبيها) (٣) فهو أحق به إن تكلمت فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت کے بھائی یا باپ کے لئے اگر کسی ہبہ وغیرہ کی شرط لگائی گئی ہے تو اگر عورت دعویٰ کرے تو اس کی زیادہ مستحق ہے۔