حدیث نمبر: 17255
١٧٢٥٥ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن (ابن أبي ليلى) (٢) عن المنهال عن عباد ⦗٢٩٢⦘ ابن عبد اللَّه عن علي (٣) في التي شرط لها دارها قال: شرط اللَّه قبل شرطها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کے لئے اسی کے گھر میں رہنے کی شرط لگائی ” اللہ کی شرط اس عورت کی شرط سے پہلے ہے۔ “
حدیث نمبر: 17256
١٧٢٥٦ - حدثنا ابن مبارك عن الحارث بن عبد الرحمن بن أبي (ذباب) (١) عن مسلم بن يسار عن سعيد بن المسيب في الرجل يتزوج المرأة (يشرط) (٢) لها دارها قال: يخرجها إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کے لئے اسی کے گھر میں رہنے کی شرط لگائی ” اگر چاہے تو اسے نکال سکتا ہے “
حدیث نمبر: 17257
١٧٢٥٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن محمد بن سيرين عن شريح (أن امرأة جاءت فقالت: شرط لها دارها) (١)، فقال: شرط اللَّه قبل شرطها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت حضرت شریح کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میرے خاوند نے میرے لئے میرے گھر میں رہنے کی شرط لگائی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی شرط اس کی شرط سے پہلے ہے۔
حدیث نمبر: 17258
١٧٢٥٨ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حسن فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو اسے گھر سے نکال سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 17259
١٧٢٥٩ - وعن يونس عن الحسن (قالا) (١): يخرجها إن شاء.
حدیث نمبر: 17260
١٧٢٦٠ - حدثنا أبو خالد عن (ابن) (١) سالم عن الشعبي قال: يذهب بها حيث شاء والشرط باطل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے جاسکتا ہے اور شرط باطل ہے۔
حدیث نمبر: 17261
١٧٢٦١ - حدثنا معاذ عن أشعث عن محمد في رجل تزوج امرأة وشرط لها دارها قال: لا شرط لها.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کے لئے اسی کے گھر میں رہنے کی شرط لگائی کہ اس کے لئے کوئی شرط نہیں۔
حدیث نمبر: 17262
١٧٢٦٢ - حدثنا أبو أسامة عن حبيب بن (جري) (١) قال: سمعت طاوسًا وسئل عن الرجل يخطب المرأة فتشرط عليه أشياء، قال: ليس الشرط بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی نے کسی عورت کو پیام نکاح بھجوایا اور اس کے لئے بہت شرطیں اپنے اوپر لازم کرلیں۔ اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ حضرت طاوس نے فرمایا کہ شرط کوئی چیز نہیں ہے۔