کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کے لئے اسی کے گھر میں رہنے کی شرط لگائی تو جن حضرات کے نزدیک اس شرط کو پورا کرنا ضروری ہے
حدیث نمبر: 17247
١٧٢٤٧ - حدثنا ابن عيينة عن يزيد (بن يزيد) (١) (بن) (٢) جابر عن إسماعيل ابن (عبيد اللَّه) (٣) (عن) (٤) عبد الرحمن بن غنم عن عمر قال: لها شرطها، قال رجل: إذن (يطلقننا) (٥) فقال عمر: إن مقاطع الحقوق عند الشرط (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لرحمن بن غنم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ شرط اب عورت کا حق ہے۔ ایک آدمی نے کہا کہ پھر تو وہ ہمیں چھوڑ دیں گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حقوق کا معاملہ شرط لگانے کے وقت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 17248
١٧٢٤٨ - حدثنا وكيع عن سعيد (بن) (١) عبد العزيز عن إسماعيل بن ⦗٢٩٠⦘ (عبيد اللَّه) (٢) عن ابن غنم (عن عمر) (٣) قال: لها شرطها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شرط کا پورا ہونا عورت کا حق ہے۔
حدیث نمبر: 17249
١٧٢٤٩ - حدثنا وكيع عن عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عقبة بن عامر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أحق (الشروط) (١) أن (يوفى) (٢) به ما استحللتم به الفروج" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر وہ شرط جس کے ذریعہ شرم گاہ کو حلال کیا جائے اس کا حق یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔
حدیث نمبر: 17250
١٧٢٥٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن أبي (عبيدة) (١) أن معاوية سأل (عنها) (٢) عمرو بن العاص فقال: لها شرطها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے اس بارے میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ شرط کا پورا کرنا عورت کا حق ہے۔
حدیث نمبر: 17251
١٧٢٥١ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) أبي (الشعثاء) (٢) قال (٣): (إذا) (٤) شرط لها دارها فهو بما (استحل) (٥) من فرجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شعثاء فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے عورت کے لئے اس کے گھر کی شرط لگائی تو یہ ایک ایسی شرط ہے جس کے ذریعے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے۔
حدیث نمبر: 17252
١٧٢٥٢ - حدثنا ابن علية عن أبي حيان قال: (نا) (١) أبو الزناد أن امرأة خاصمت زوجها إلى عمر بن عبد العزيز قد شرط لها دارها حين تزوجها فأراد أن (٢) يخرجها منها فقضى عمر أن لها (دارها) (٣) لا يخرجها منها وقال: والذي نفس عمر بيده لو استحللت فرجها بزنة أحد ذهبًا (لأخذتك) (٤) به لها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زناد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس ایک مقدمہ لے کر آئی کہ اس کے خاوند نے نکاح کے وقت اس کو اسی کے گھر میں ٹھہرانے کی شرط لگائی تھی۔ اب وہ اس کو اس گھر سے نکالنا چاہتا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ عور ت کا حق ہے کہ وہ اپنے گھر میں رہے خاوند اسے اس سے نکال نہیں سکتا۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ اگر تو نے احد پہاڑ کے برابر سونے کے عوض بھی عورت کی شرمگاہ کو حلال کیا ہوتا تو وہ بھی میں تجھ سے لے کر اسے دیتا۔
حدیث نمبر: 17253
١٧٢٥٣ - حدثنا وكيع عن شريك عن عاصم عن عيسى بن (حطان) (١) عن مجاهد وسعيد بن جبير قالا: يخرجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر نے پہلے فتوی دیا کہ وہ اسے گھر سے نکال سکتا ہے۔ یہ سن کر حضرت یحییٰ بن جزار نے فرمایا کہ پھر اس نے کس چیز کے عوض عورت کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے ؟ اس پر دونوں حضرات نے اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیا۔
حدیث نمبر: 17254
١٧٢٥٤ - (قال) (١) يحيى بن (الجزار) (٢): فبأي شيء يستحل الفرج فبأي كذا وكذا (فرجعا) (٣).