حدیث نمبر: 17153
١٧١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) علي بن مسهر وأبو معاوية عن حجاج عن عبد الملك بن (المغيرة) (٢) الطائفي عن عبد الرحمن (بن البيلماني) (٣) مولى عمر قال: خطب رسول اللَّه ﷺ فقال: "انكحوا الأيامي منكم". فقام إليه رجل فقال: يا رسول ⦗٢٦٧⦘ اللَّه! ما العلائق بينهم؟ قال: " (ما) (٤) تراضى عليه (أهلوهم) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ کنوارے لوگوں کی شادیاں کراؤ۔ ایک آدمی نے کھڑے ہوکر سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ان کے مہر کیا ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ جس پر ان کے گھر والے راضی ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 17154
١٧١٥٤ - حدثنا وكيع عن ابن أبي (لبيبة) (١) عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من استحل بدرهم فقد استحل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لبیبہ کے دادا فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے ایک درہم کے ذریعہ بھی عورت کو حلال کیا اس کے لئے حلال ہوگئی۔ حضرت وکیع کا فتوی بھی یہی تھا کہ مہر میں ایک درہم دینا بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 17155
١٧١٥٥ - قال: وسمعت وكيعًا (يفتي) (١) به يقول: يتزوجها بدرهم.
حدیث نمبر: 17156
١٧١٥٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن عبيد اللَّه عن عبد اللَّه بن عامر ابن ربيعة عن أبيه (أن) رجلًا تزوج على عهد (رسول اللَّه) (١) ﷺ على نعلين فأجاز النبي نكاحه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عہد نبوی ﷺ میں دو جوتے مہر کے عوض ایک عورت سے نکاح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 17157
١٧١٥٧ - حدثنا أبو بكر (حدثنا) (١) حسين بن علي عن زائدة عن أبي حازم عن سهل بن سعد أن النبي ﷺ زوج رجلًا امرأة على أن يعلمها سورة من القرآن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کی ایک عورت سے اس مہر پر شادی کرائی کہ وہ عورت کو قرآن مجید کی ایک سورت سکھائے گا۔
حدیث نمبر: 17158
١٧١٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إسماعيل (بن أمية) (١) عن سعيد بن المسيب قال: لو رضيت (بسوط) (٢) كان (مهرها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ عورت اگر ایک درّہ (کوڑا) مہر لینے پر راضی ہوجائے تو وہی اس کا مہر بن جائے گا۔
حدیث نمبر: 17159
١٧١٥٩ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن قتادة عن أنس قال: تزوج عبد الرحمن ابن عوف على وزن نواة (من) (١) ذهب قومت ثلاثة (دراهم) (٢) وثلث (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سونے کی ایک گٹھلی کے عوض نکاح کیا، وہ گٹھلی تین درہم اور ایک تہائی درہم کے برابر تھی۔
حدیث نمبر: 17160
١٧١٦٠ - حدثنا حفص بن غياث عن عمرو عن الحسن قال: ما تراضى عليه الزوج والمرأة من شيء فهو (مهر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جتنے مہر پر میاں بیوی راضی ہوجائیں وہی مہر کافی ہے۔
حدیث نمبر: 17161
١٧١٦١ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن (عطاء) (١) في الرجل يتزوج على عشرة دراهم قال: قد (كان) (٢) المسلمون يتزوجون على أقل من ذلك (و) (٣) أكثر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس شخص کے بارے میں جو دس دراہم کے عوض نکاح کرے فرماتے تھے کہ مسلمان اس سے کم اور اس سے زیادہ پر بھی نکاح کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 17162
١٧١٦٢ - حدثنا ابن علية عن (صالح) (١) بن مسلم قال: قلت (للشعبي) (٢): (رجل) (٣) تزوج امرأة (بدرهم) (٤) (قال) (٥): لا (تصلح) (٦) إلا بثوب أو بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص ایک درہم کے عوض کسی عورت سے نکاح کرے تو کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کپڑا یا اس جیسی کوئی چیز بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 17163
١٧١٦٣ - حدثنا معتمر بن سليمان عن ابن عون قال: سألت الحسن: ما (أدنى) (١) ما يتزوج الرجل عليه؟ قال: نواة من ذهب أو وزن نواة من ذهب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے مہر کی کم از کم مقدار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سونے کی ایک گٹھلی یا اس کے برابر کوئی چیز۔
حدیث نمبر: 17164
١٧١٦٤ - حدثنا حفص عن أشعث وهشام عن ابن سيرين عن أبي العجفاء (السلمي) (١) عن (عمر) (٢) قال: لا تغالوا في مهور النساء فإنها لو كانت مكرمة (في) (٣) الدنيا أو تقوى عند اللَّه لكان (أحقكم بها) (٤) محمد وأولاكم، ما (زوج) (٥) بنتًا من بناته ولا تزوج شيئًا من نسائه إلا على (اثنتي) (٦) عشر أوقية (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتوں کو بہت زیادہ مہر نہ دو ، کیونکہ اگر یہ دنیا میں کوئی عزت کی چیز ہوتی یا تقویٰ کا سبب ہوتی تو محمد ﷺ اور آپ کی اولاد اس کے زیادہ حقدار ہوتے۔ حالانکہ آپ نے اپنی تمام صاحبزادیوں کا نکاح اور اپنی تمام ازواج سے نکاح بارہ اوقیہ چاندی پر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 17165
١٧١٦٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) ابن عون عن ابن سيرين عن أبي العجفاء (السلمي) (٢) قال: قال عمر: لا تغالوا (صدق) (٣) النساء ثم ذكر مثل حديث حفص (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 17166
١٧١٦٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن يحيى بن (سعيد) (١) قال: حدثني محمد ابن إبراهيم قال: كان صداق بنات النبي ﷺ وصداق نسائه خمس (مائة) (٢) درهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی صاحبزادیوں اور آپ کی ازواج کا مہر پانچ سو درہم تھا۔
حدیث نمبر: 17167
١٧١٦٧ - حدثنا شريك (بن) (١) عبد اللَّه عن داود الزعافري عن الشعبي قال: قال علي: لا مهر بأقل من (عشرة) (٢) (دراهم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 17168
١٧١٦٨ - حدثنا وكيع عن (ابن أبي رواد) (١) عن نافع أن عمر نهى أن (يزاد) (٢) ⦗٢٧١⦘ (صداق) (٣) النساء على أربع مائة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں کا مہر چار سو سے زائد کرنے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 17169
١٧١٦٩ - [حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم أنه كره أن يتزوج على (أقل) (١) من أربعين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ چالیس درہم سے کم مہر کے عوض نکاح کیا جائے اور حضرت حکم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 17170
١٧١٧٠ - وكان الحكم لا يرى به بأسًا] (١).
حدیث نمبر: 17171
١٧١٧١ - حدثنا أبو معاوية عن عبد الرحمن (عن) (١) عبد اللَّه بن عمر عن نافع قال: تزوج ابن عمر صفية على أربع مائة (درهم) (٢) فأرسلت إليه أن هذا لا يكفينا فزادها مائتين (سرًا) (٣) من عمرو (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چار سو درہم کے عوض صفیہ سے نکاح فرمایا، صفیہ نے انہیں پیغام بھیجا کہ اتنا مہر کافی نہیں ہے۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے چھپ کردو سو درہم کا اضافہ کیا۔
حدیث نمبر: 17172
١٧١٧٢ - حدثنا أبو بكر (١) عن جرير بن عبد الحميد عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: السنة في النكاح اثنا عشر أوقية ونصف فذلك خمس مائة (درهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نکاح میں سنت بارہ اوقیہ پورے اور نصف اوقیہ چاندی ہے اور یہ پانچ سودرہم بنتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17173
١٧١٧٣ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن أبي هارون عن أبي سعيد قال: ليس على الرجل جناح أن يتزوج بقليل من ماله (أو) (١) كثير إذا (تراضوا) (٢) وأشهدوا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ مرد کے لئے کسی قلیل وکثیر مال پر نکاح کرنا لازم نہیں، بس باہمی رضامندی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 17174
١٧١٧٤ - حدثنا ابن عيينة عن أيوب (بن) (١) موسى (عن) (٢) ابن (قسيط) (٣) (أن) (٤) سعيد بن المسيب قال: لو أصدقها سوطا (لحلت) (٥) له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اگر آدمی عورت کو ایک درہ مہر میں دے تو کافی ہے۔
حدیث نمبر: 17175
١٧١٧٥ - حدثنا أبو أسامة (قال) (١): حدثني موسى بن عبد اللَّه قال: (نا) (٢) إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي طلحة الأنصاري أن رسول اللَّه ﷺ تزوج (سودة بنت زمعة) (٣) على بيت ورثه من بعض نسائه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ انصاری فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ سے ایک کمرے کے عوض نکاح کیا جو آپ کو ایک اہلیہ کی طرف سے وراثت میں ملا تھا۔
حدیث نمبر: 17176
١٧١٧٦ - حدثنا أبو خالد عن الأعمش عن إبراهيم (قال: كانوا) (١) يكرهون أن يتزوج الرجل على الدرهم والدرهم مثل (مهر) (٢) البغي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیتے تھے کہ عورتوں کا مہر فاحشہ کی اجرت کی طرح ایک یا دو درہم رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 17177
١٧١٧٧ - حدثنا غندر (عن شعبة) (١) عن أبي (مسلمة) (٢) عن الشعبي قال: (سمعه) (٣) يقول: كانوا يكرهون أن يتزوج على أقل من ثلاث أواق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اسلاف علماء اس بات کو ناپسند قرار دیتے تھے کہ عورت کا مہر تین اوقیہ سے کم ہو۔
حدیث نمبر: 17178
١٧١٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن ابن (سخبرة) (١) عن القاسم عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "أعظم [النساء بركة (أيسرهن) (٢) مؤنة] (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ برکت اس نکاح میں ہوتی ہے جس میں خرچہ سب سے کم ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 17179
١٧١٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم التيمي أن أبا (حدرد) (١) الأسلمي (استعان) (٢) رسول اللَّه ﷺ في مهر امرأة ⦗٢٧٤⦘ نكحها، فسأله رسول اللَّه ﷺ كم "أصدقتها" (٣)؟ فقال: (مائتي) (٤) درهم فقال رسول اللَّه ﷺ: "لو كنتم (تغرفون) (٥) من بطحان ما زدتم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ ابو حدرد اسلمی نے اپنی بیوی کے مہر میں حضور ﷺ سے مدد چاہی آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کے لئے کتنا مہر طے کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ دو سو درہم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم دراہم کو بطحان نامی وادی سے ہاتھوں میں بھر کر لاتے تو اتنا زیادہ مہر نہ رکھتے۔