حدیث نمبر: 17124
١٧١٢٤ - حدثنا ابن (عيينة) (١) (عن) (٢) (عمرو) (٣) عن أبي (٤) معبد (أن) (٥) ابن عباس وطئ جارية بعد ما أنكر ولدها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابومعبد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک ایسی باندی سے جماع کیا جس کے بچے کا انکار کیا تھا۔
حدیث نمبر: 17125
١٧١٢٥ - حدثنا حفص عن ليث عن عبد اللَّه بن أبي لبابة عن ابن عباس أنه كان لا يرى بأسًا أن يطأ الرجل (أمته) (١) إذا فجرت ويرى أن ذلك تحصين لها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما زانیہ باندی سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور فرماتے کہ یہ اس کے لئے پاکیزگی کا سبب ہوگا۔
حدیث نمبر: 17126
١٧١٢٦ - حدثنا يحيى بن (سعيد) (١) عن (عبيد اللَّه) (٢) بن عمر عن محمد بن سعيد بن المسيب عن أبيه أنه وطأ جارية له بعد ما فجرت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب نے ایک زانیہ باندی سے جماع کیا۔
حدیث نمبر: 17127
١٧١٢٧ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن الشعبي في الرجل يطأ أمته وقد زنت قال: هو بالخيار إن شاء وطئها، وإن شاء أمسك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے سوال کیا گیا کہ کیا آدمی زانیہ باندی سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے اختیا رہے اگر چاہے تو اس سے جماع کرلے اور اگر چاہے تو اسے روکے رکھے۔
حدیث نمبر: 17128
١٧١٢٨ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن معاوية بن قرة قال: كان عبد اللَّه يكره (أمته) (١) قد زنت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہایسی باندی سے جماع کرنے کو مکروہ خیال کرتے تھے جس نے زنا کیا ہو۔
حدیث نمبر: 17129
١٧١٢٩ - حدثنا الفضل (عن) (١) مبارك عن الحسن قال: سمعته وسئل عن الرجل يرى أمته تفجر (أيطأها) (٢)؟ قال: لا، ولا (كرامة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ کیا آدمی اپنی زانیہ باندی سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔