حدیث نمبر: 17115
١٧١١٥ - حدثنا هشيم عن العوام قال: أخبرني من سمع سعيد بن المسيب يكره أن يطلب الرجل الولد من الأمة إذا كانت ولد (زنى) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب نے حرامیہ باندی سے طلب اولاد کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 17116
١٧١١٦ - حدثنا وكيع (١) عن معمر عن (أبي) (٢) جعفر قال: يتسرى ولد الزنى ولا يطلب ولدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ آدمی حرامیہ باندی سے جماع تو کرسکتا ہے لیکن اولاد حاصل کرنا درست نہیں۔
حدیث نمبر: 17117
١٧١١٧ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (١) عثمان بن الحارث (٢) أبي الرواع قال: سألت ابن عمر عن ولد الزنى، فقال: النساء كثير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رواع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حرامیہ باندی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ عورتیں بہت ہیں۔
حدیث نمبر: 17118
١٧١١٨ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن إبراهيم بن المهاجر) (١) عن إبراهيم قال: لا بأس أن (يتسراها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حرامیہ باندی میں تصرف کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 17119
١٧١١٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن الحسن في الرجل يكون تحته الأمة (الزنية) (١) قال: هي (كعرض) (٢) ماله يطؤها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن حرامیہ باندی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس کا مال ہے اس سے جماع کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 17120
١٧١٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: لا بأس أن يشتري الرجل ولد (الزنية) (١) يتسراها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حرامیہ باندی کو خریدنے اور اس سے جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 17121
١٧١٢١ - حدثنا معتمر عن أبيه عن (سيار) (١) مولى لمعاوية قال: (٢) أراد (رجل) (٣) أن يتزوج (بنت) (٤) زنية فسأل عن ذلك رجلًا من أصحاب (رسول اللَّه) (٥) ﷺ فقال (لا، إذا أتزوج) (٦) أمها أحب إلي من أن (أتزوجها) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سیار مولی معاویہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے کسی حرامیہ عورت سے شادی کا ارادہ کیا اور اس بارے میں ایک صحابی سے پوچھا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم ایسا نہ کرو، اس سے شادی کرنے سے بہتر ہے کہ تم اس کی ماں سے شادی کرلو۔
حدیث نمبر: 17122
١٧١٢٢ - حدثنا حميد عن حسن عن أشعث عن محمد بن (سيرين) (١) في الرجل يتسرى ولد الزنى. قال: وما (ذنبه) (٢) فيما (عمل) (٣) (أبواه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین حرامیہ عورت سے شادی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کے والدین کے گناہ کا وبال اس پر کیوں ہو۔
حدیث نمبر: 17123
١٧١٢٣ - حدثنا الفضل بن (دكين) (١) عن عبد اللَّه بن حبيب قال: سمعت يقول: لو كانت لي جارية ولد (زنى) (٢) لم أبال أن أطأها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر میرے پاس کوئی حرامیہ باندی ہو تو مجھے اس سے جماع کرنے میں کوئی عار نہیں۔