کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 17032
١٧٠٣٢ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن موسى بن أيوب عن عمه عن علي قال: سألته عن رجل له أمتان أختان وطئ إحداهما ثم أراد أن يطأ الأخرى قال: لا، حتى يخرجها من (ملكه) (١)، قال: قلت: (فإن زوجها) (٢) عبده، قال: لا؛ حتى يخرجها عن ملكه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن ایوب کے چچا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ایسا کرنا درست نہیں۔ ا لبتہ ایک کو اپنی ملکیت سے نکال کر ایسا کرسکتا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ اگر ان میں سے ایک کی اپنے غلام سے شادی کرا دے تو پھر کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں جب تک ایک کو اپنی ملکیت سے نکال نہ دے۔
حدیث نمبر: 17033
١٧٠٣٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس ووكيع عن شعبة عن أبي عون عن أبي صالح الحنفي أن ابن الكواء سأل عليًا عن الجمع بين الأختين فقال: (حرمتهما آية ⦗٢٣٩⦘ وأحلتهما) (١) أخرى ولست (أفعله) (٢) أنا ولا أهلي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن کو اء نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آدمی دو بہنوں کو جمع کرسکتا ہے۔ ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے اسے حلال اور دوسری نے حرام کیا ہے۔ البتہ میں اور میرے اہل ایسا نہ کریں گے۔
حدیث نمبر: 17034
١٧٠٣٤ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين قال: اغضبوا ابن مسعود في الأختين المملوكتين، فغضب وقال: (جمل) (١) أحدكم مما (ملكت) (٢) يمينه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس بات پر بہت غصہ آتا کہ کوئی شخص دو بہنوں کو جمع کرے۔ آپ فرماتے کہ تم لوگوں کو اپنے مملوکوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 17035
١٧٠٣٥ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول في رجل يكون له الأمتان الأختان فيطأ (إحداهما) (١) قال: لا يطا الأخرى حتى يخرجها (عن) (٢) ملكه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں، ایک سے جماع کیا ہو تو کیا دوسری سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں جب تک صحبت شدہ کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے اس وقت تک جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 17036
١٧٠٣٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن مطرف عن أبي الجهم عن أبي الأخضر عن عمار قال: ما حرم اللَّه من الحرام شيئًا إلا وقد حرمه من الإماء إلا أن الرجل قد يجمع ما شاء من الإماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آزاد عورتوں میں حرام کیا ہے وہ باندیوں میں بھی حرام کیا ہے۔ البتہ آدمی باندیوں کو جتنا چاہے رکھ سکتا ہے۔ (ان کی تعداد مقرر نہیں)
حدیث نمبر: 17037
١٧٠٣٧ - حدثنا خالد بن (مخلد) (١) عن مالك بن أنس عن الزهري عن قبيصة بن ذؤيب قال: سئل عثمان بن عفان عن الأختين (من) (٢) ملك اليمين يجمع ⦗٢٤٠⦘ بينهما، فقال: أحلتهما آية من كتاب اللَّه و (حرمتهما) آية وأما أنا فما أحب أن أفعل ذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا دو مملوک بہنوں سے جماع کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کتاب اللہ کی ایک آیت نے اسے حلال اور دوسری نے حرام کیا ہے۔ البتہ میں تو ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 17038
١٧٠٣٨ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن ميمون عن ابن عمر أنه سئل عن رجل له أمتان أختان وقع على (إحداهما) (١) أيقع على الأخرى؟ قال: فقال ابن عمر: لا يقع على الأخرى ما دامت التي وقع عليها في ملكه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کیا دو مملوک بہنوں سے جماع کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب تک جماع شدہ باندی اس کی ملک میں ہے اس کی بہن سے جماع نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 17039
١٧٠٣٩ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع قال: سألت ابن الحنفية عن رجل عنده (أختان) (١) أمتان أيطأهما؟ فقال: أحلتهما آية وحرمتهما آية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن حنفیہ سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے انہیں حلال اور دوسری نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر میں حضرت سعید بن مسیب کے پاس آیا تو انہوں نے بھی محمد بن حنفیہ والی بات کہی۔ پھر میں نے حضرت ابن منبہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کردہ شریعت کے مطابق دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے والا ملعون ہے۔ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ دونوں آزادہوں یاباندیاں۔ عبد العزیز کہتے ہیں کہ میں نے جاکر ابن منبہ کی بات سعید بن مسیب کو بتائی تو انہوں نے اللہ کی تکبیر بیان کی۔
حدیث نمبر: 17040
١٧٠٤٠ - ثم أتيت ابن المسيب فقال: مثل قول محمد.
حدیث نمبر: 17041
١٧٠٤١ - ثم سألت ابن منبه فقال: أشهد أنه فيما أنزل اللَّه على موسى أنه ملعون من جمع بين الأختين قال: فما (فصل) (١) لنا حرتين ولا مملوكتين.
حدیث نمبر: 17042
١٧٠٤٢ - قال: فرجعت إلى ابن المسيب فأخبرته فقال: اللَّه أكبر.
حدیث نمبر: 17043
١٧٠٤٣ - حدثنا وكيع عن ابن مبارك عن ابن ثوبان عن عائشة أنها كرهته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عمل کو مکروہ قراردیا ہے۔
حدیث نمبر: 17044
١٧٠٤٤ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل له أمتان أختان ⦗٢٤١⦘ فغشي إحداهما ثم أمسك (عنها) (١) هل له أن يغشى الأخرى، قال: كان يعجبه أن لا يغشاها حتى (تخرج) (٢) عنه هذه التي غشي من (ملكه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں، ایک سے جماع کیا ہو تو کیا دوسری سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں جب تک صحبت شدہ کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے اس وقت تک جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 17045
١٧٠٤٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم وحماد قالا: إذا كانت عند الرجل أختان فلا يقربن واحدة منهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں تو دونوں میں سے ایک کے قریب نہ جائے۔
حدیث نمبر: 17046
١٧٠٤٦ - حدثنا أسباط بن محمد عن أشعث [عن الشعبي وابن سيرين قالا: (يحرم من جمع الإماء) (١) ما يحرم من جمع الحرائر إلا العدد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ سوائے تعداد کے باندیوں اور آزاد عورتوں سے صحبت کے احکامات ایک جیسے ہیں۔
حدیث نمبر: 17047
١٧٠٤٧ - حدثنا] (١) غندر عن معمر عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة قال: سأل رجل عثمان عن الأختين يجمع بينهما، فقال: أحلتهما آية وحرمتهما آية ولا آمرك ولا أنهاك فلقي عليًا بالباب فقال: (عمّ) (٢) سألته (٣) فأخبره فقال: لكني أنهاك ولو كان لي عليك سبيل ثم فعلت ذلك لأوجعتك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں، ایک سے جماع کیا ہو تو کیا دوسری سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے انہیں حلال اور دوسری نے حرام قرار دیا ہے۔ البتہ میں نہ اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں۔ پھر وہ سوال کرنے والا دروازہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اسی بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں اور اگر مجھے تم پر قدرت ہوئی اور تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں سزا دوں گا۔
حدیث نمبر: 17048
١٧٠٤٨ - حدثنا عبد الأعلى عن ابن إسحاق عن عاصم بن عمر (بن) (١) قتادة عن القاسم بن محمد أن حيًّا من أحياء العرب سألوا معاوية عن (الأختين) (٢) مما ⦗٢٤٢⦘ ملكت اليمين يكونان عند الرجل فيطأهما قال: ليس بذلك بأس، (فسمع) (٣) بذلك النعمان بن بشير فقال: أفتيت بكذا وكذا؟ قال: نعم! (قال) (٤): أرأيت لو كانت عند رجل (أخته) (٥) مملوكة كان يجوز له أن (يطأهما) (٦)، فقال: (أما) (٧) واللَّه إنما رددتني أدرك فقل لهم اجتنبوا ذلك فإنه لا ينبغي لهم، قال: قلت: إنما هي الرحم من (العتاقة) (٨) وغيرها (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ عرب کے ایک قبیلے نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آدمی دومملوک بہنوں سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے اس کے جواز کا فتوی دیا۔ یہ بات حضرت نعمان بن بشیر کو پہنچی، انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھاتو انہوں نے اس فتویٰ کا اقرار کیا۔ اس پر حضرت نعمان بن بشیرنے فرمایا کہ آپ یہ بتائیں کہ اگر وہ باندی کسی ایسے شخص کے پاس ہوتی جس کی بہن باندی ہو تو کیا اس کے لئے اس سے وطی کرنا جائز ہے ؟ یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے میری آنکھیں کھول دیں۔ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں ایسا کرنے سے منع کرو۔ ان کے لئے ایسا کرنا مناسب نہیں ہے۔ حضرت قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یہ آزادی وغیرہ کا رحمی رشتہ ہے۔