کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص نے کسی عورت کو چھوا یا اس کے کپڑے اتارے تو وہ اس کے باپ اور بیٹوں کے لئے حرام ہوجائے گی
حدیث نمبر: 16995
١٦٩٩٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن مكحول أن عمر جرّد جاريته فسأله إياها بعض بنيه فقال: (إنها) (١) لا تحل لك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک باندی کے کپڑے اتارے، بعدا زاں آپ کے ایک بیٹے نے آپ سے وہ باندی مانگی تو آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16996
١٦٩٩٦ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن حجاج عن مكحول أن عمر جرد جارية له فطلبها إليه بعض بنيه فقال: إنها لا تحل لك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک باندی کے کپڑے اتارے، بعدا زاں آپ کے ایک بیٹے نے آپ سے وہ باندی مانگی تو آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16997
١٦٩٩٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أنه جرد جارية له ثم سألها إياه بعض ولده فقال: إنها لا تحل لك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک باندی کے کپڑے اتارے، بعدا زاں آپ کے ایک بیٹے نے آپ سے وہ باندی مانگی تو آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16998
١٦٩٩٨ - حدثنا أبو خالد الأحمز (١) سليمان بن (حيان) (٢) عن (يحيى) (٣) بن سعيد عن القاسم بن محمد عن عبد اللَّه بن عامر أن أباه حين حضرته الوفاة نهى بنيه عن جارية له أن يطأها أحد منهم قال: وما (نعلمه) (٤) وطئها إلا أن يكون اطلع ⦗٢٣٠⦘ منها على أمر كره أن يطلع (ولده) (٥) مطلعه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات کا وقت آیاتو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میری فلاں باندی سے تم میں سے کوئی جماع نہ کرے۔ عبد اللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق میرے والد نے اس باندی سے جماع تو نہیں کیا تھا البتہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اسے برہنہ دیکھا ہو۔
حدیث نمبر: 16999
١٦٩٩٩ - (حدثنا) (١) أبو خالد الأحمر عن حجاج عن مكحول أن عمر جرد جارية له ونظر إليها، فسأله إياها بعض ولده فقال: إنها لا تحل لك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک باندی کو برہنہ دیکھا، پھر ایک مرتبہ آپ کے ایک بیٹے نے آپ سے اس باندی کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے حلال نہیں۔
حدیث نمبر: 17000
١٧٠٠٠ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده بمثل هذا (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 17001
١٧٠٠١ - حدثنا أبو خالد عن أشعث عن الحكم قال: قال مسروق: حين (حضرته) (١) الوفاة: إني لم (أصب) (٢) من جاريتي هذه إلا ما يحرمها على ولدي المس والنظر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب حضرت مسروق کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی اس باندی سے صرف اتنا تعلق رکھا ہے جس سے یہ میرے بیٹوں پر حرام ہوگئی ہے یعنی چھونا اور دیکھنا۔
حدیث نمبر: 17002
١٧٠٠٢ - حدثنا ابن علية عن ابن أبي نجيح قال: (قال) (١) مجاهد: إذا مس الرجل فرج الأمة أو (مس) (٢) فرجه فرجها أو باشرها فإن ذلك يحرمها على أبيه و (على) (٣) ابنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی باندی کی شرمگاہ کو چھوا، یا اپنی شرمگاہ کو اس کی شرمگاہ سے لگایا، یا اس سے جماع کیا تو یہ باندی اس کے باپ اور بیٹوں پر حرام ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 17003
١٧٠٠٣ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أنه سأل عن رجل جرد جاريته هل تحل لابنه أو لأبيه: أنه كان يكره ذلك إذا قبلها أو جردها لشهوة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو برہنہ دیکھ لے تو کیا وہ باندی اس کے باپ یا بیٹوں کے لئے حلال ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنی باندی کا بوسہ لیا یاشہوت کیوجہ سے اس کے کپڑے اتارے تو اس کا باپ اور اس کے بیٹے اس باندی کو استعمال نہیں کرسکتے۔
حدیث نمبر: 17004
١٧٠٠٤ - حدثنا الثقفي عن (مثنى عن عمرو بن شعيب عن سالم عن ابن عمرو قال: أيما رجل جرد (جارية) (١) فنظر منها إلى ذلك الأمر فإنها لا تحل لابنه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی باندی کے کپڑے اتار کر اسے دیکھا تو یہ اس کے بیٹے کے لئے حلال نہیں۔
حدیث نمبر: 17005
١٧٠٠٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم أنه (سئل عن) (١) (شيء) (٢) فقال: قد زعموا أن رجلًا اشترى جارية فخشيت امرأته أن يتخذها فأمرت إبنا لها غلامًا أن يضطجع عليها ليحرمها على زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے ایک مسئلہ کے بارے میں فرمایا کہ اہل علم کی رائے تھی کہ اگر کوئی آدمی کوئی باندی خریدے اور اس کی بیوی کو خوف ہو کہ یہ اس باندی سے جماع کرے گا ، وہ عورت اپنے بیٹے سے کہے کہ وہ اس باندی کے ساتھ لیٹ جائے تو یہ باندی اس کے خاوند پر حرام ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 17006
١٧٠٠٦ - حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب عن الزهري كره أن يطأ الرجل امرأة قبلها أبوه أو نظر إلى محاسرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کسی باندی کا بوسہ لیا یا اس کی شرمگاہ کو دیکھا تو وہ باندی اس کے بیٹے کے لئے حرام ہے۔
حدیث نمبر: 17007
١٧٠٠٧ - حدثنا عيسى بن يونس عن أبي بكر عن مكحول قال: أيما رجل جرد جارية حرمت على ابنه وعلى أبيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی باندی کو برہنہ دیکھ لے تو وہ باندی اس کے باپ یا بیٹوں کے لئے حلال نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 17008
١٧٠٠٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو بن (هرم) (١) قال: (سئل) (٢) جابر بن زيد (عن) (٣) جارية كانت لرجل (فمس) (٤) قبلها بيده أو ⦗٢٣٢⦘ (أبصر) (٥) عورتها ثم وهبها لابن له (أيصح) (٦) (له) (٧) أن (يطأها) (٨) قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کی باندی ہے، اس نے اس کی شرمگاہ کو چھوا یا اس اس کی شرمگاہ کو دیکھا پھر اپنے بیٹے کو تحفہ میں دے دی تو کیا بیٹا اس سے وطی کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 17009
١٧٠٠٩ - حدثنا أبو معاوية عن الحسن بن عمرو عن الشعبي قال: كتب مسروق إلى أهله: انظروا جاريتي فلا (تبتغوها) (١) فإني لم أصب منها إلا ما يحرمها على ولدي (اللمس) (٢) والنظر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے اپنے گھر والوں کو خط میں لکھا کہ میری باندی کو مت بیچنا، میں نے اس سے صرف اتنا تعلق رکھا ہے جو اسے میرے بیٹوں پر حرام کردیتا ہے۔ یعنی چھونا اور دیکھنا۔