کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی کسی عورت سے نکاح کرے لیکن اس سے ازدواجی ملاقات کی نوبت نہ آئے تو کیا اس آدمی کے باپ کے لئے اس عورت کا نکاح کرنا جائز ہوگا
حدیث نمبر: 16988
١٦٩٨٨ - حدثنا (١) وكيع بن (الجراح) (٢) (عن سفيان) (٣) عن ابن طاوس عن أبيه قال: إذا تزوج الابن لم تحل للأب دخل بها أو لم يدخل، وإذا (تزوج) (٤) الأب لم تحل (للأبن) (٥) دخل بها أو لم يدخل بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا تو وہ عورت اس کے باپ کے لئے حلال نہیں خواہ اس نے ازدواجی ملاقات کی ہو یا نہ کی ہو۔ اور اسی طرح اس کے بیٹے کے لئے بھی حلال نہیں خواہ اس نے ازدواجی ملاقات کی ہو یا نہ کی ہو۔
حدیث نمبر: 16989
١٦٩٨٩ - حدثنا حاتم بن وردان عن برد عن الزهري قال: من ملك عقدة امرأة فقد حرمت على (ابنه وعلى أبيه) (١) وأيهما جرد فنظر إلى العورة كذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا تو وہ عورت اس کے بیٹے اور باپ پر حرام ہوجائے گی۔ اسی طرح ان دونوں میں سے کسی نے کسی عورت کی شرم گاہ دیکھی تو وہ بھی دوسرے کے لئے حرام ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 16990
١٦٩٩٠ - حدثنا عيسى بن يونس (عن أبي بكر) (١) عن مكحول قال: أيهما ملك عقدة امرأة (فقد) (٢) حرمت على الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ باپ اور بیٹے میں سے کسی نے بھی کسی عورت سے نکاح کیا تو وہ عورت دوسرے کے لئے حرام ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 16991
١٦٩٩١ - حدثنا أبو داود عن أبي حرة عن الحسن في (رجل) (١) تزوج امرأة فطلقها قبل أن يدخل بها، (أيتزوجها) (٢) أبوه (فكرهه) (٣) وقال: قال اللَّه (تعالى) (٤): ﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ﴾ [النساء: ٢٣].
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی نے کسی عورت سے شادی کی اور اس سے ازدواجی ملاقات سے پہلے اسے طلاق دے دی تو کیا اس آدمی کا باپ اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے ؟ انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا اور قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی { وَحَلاَئِلُ أَبْنَائِکُمْ }
حدیث نمبر: 16992
١٦٩٩٢ - حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن (ومحمد) (١) (قالا) (٢): ثلاث آيات مبهمات: ﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ﴾ و ﴿مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ﴾، ﴿وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ﴾ [النساء: ٢٢، ٢٣].
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد فرماتے ہیں کہ تین آیات مبہم ہیں { وَحَلاَئِلُ أَبْنَائِکُمْ } B{ مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ } C { وَأُمَّہَاتُ نِسَائِکُمْ } حضرت اشعث فرماتے ہیں اور یہ D چوتھی آیت مبہم نہیں ہے { وَرَبَائِبُکُمَ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ مِنْ نِسَائِکُمْ } راوی حضرت معاذ نے اس آیت کو آخر تک پڑھا۔
حدیث نمبر: 16993
١٦٩٩٣ - قال (الأشعث) (١): وهذه الرابعة ليست بمبهمة: ﴿وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ﴾ [النساء: ٢٣]، فقرأها معاذ إلى آخرها.
حدیث نمبر: 16994
١٦٩٩٤ - حدثنا ابن فضيل عن عبيدة عن إبراهيم قال: إذا تزوج الرجل المرأة فلم يدخل بها (١) لم تحل (لأبيه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے کسی عورت سے شادی کی اور اس سے ازدواجی ملاقات نہ کی تو پھر بھی وہ اس کے باپ کے لئے حلال نہیں۔