حدیث نمبر: 16960
١٦٩٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان (عن) (١) (٢) (مسور) (٣) أن عمر بن عبد العزيز: كتب إذا دخل الرجل بالمرأة فقد وجب العاجل (والآجل) (٤) إلا أن يشترط في الآجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدا لعزیز نے اپنے ماتحتوں کے نام خط لکھا کہ جب آدمی اپنی بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرلے تو معجل اور مؤجل مہر واجب ہوجاتا ہے۔ البتہ اگر مؤجل کی شرط لگائی ہو تو پھر واجب نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 16961
١٦٩٦١ - حدثنا شريك عن منصور عن إبراهيم في الرجل يتزوج (المرأة) (١) إلى (ميسرة) (٢)، قال: كان يقول: إلى موت أو (فراق) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے عورت سے آسانی سے مہر ادا کرنے کی شرط لگائی تو مہر کی ادائیگی موت یا جدائی پر فرض ہوگی۔
حدیث نمبر: 16962
١٦٩٦٢ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كالى يقول في الآجل من المهر: هو حال إلا أن (تكون له) (١) مدة معلومة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ اگر مہر مؤجل کی مدت معلومہ مقرر نہ ہو تو وہ فوری طور پر واجب ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 16963
١٦٩٦٣ - حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين عن شريح قال: (تزوج رجل) (١) امرأة (بعاجل وآجل) (٢) إلى ميسرة فقدمته إلى شريح فقال: ⦗٢٢١⦘ (دلينا) (٣) على ميسرة نأخذه لك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے کسی عورت سے آسانی سے ادائیگی کی شرط پر مہر معجل اور مؤجل کے ساتھ نکاح کیا۔ عورت یہ مقدمہ لے کر حضرت شریح کی عدالت میں آئی تو انہوں نے اس عورت سے فرمایا کہ تم ہمیں آسانی کی تفصیل بتادو ہم تمہیں مہر دلوا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 16964
١٦٩٦٤ - حدثنا (أزهر السمان) (١) عن ابن عون عن أياس بن معاوية قال: إذا دخل بها فلا دعوى لها في (الآجل) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن معاویہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے عورت سے ازدواجی ملاقات کرلی تو اب عورت کے لئے مؤجل کا دعویٰ نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 16965
١٦٩٦٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن الشعبي قال: العاجل والآجل إلى موت (أو فرقة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مہر عاجل بھی آجل ہے اور اجل موت یا فرقت تک ہے۔
حدیث نمبر: 16966
١٦٩٦٦ - حدثنا أبو داود عن حماد بن سلمة قال: سمعت حمادًا يقول: هو حال (تأخذه به) (١) إذا (شاءت) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو وہ اسی وقت وصول کرسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 16967
١٦٩٦٧ - حدثنا (عبد الأعلى) (١) عن برد عن مكحول (و) (٢) الزهري (قالا) (٣) (٤) في رجل تزوج امرأة فدخل بها (فرأى بها) (٥) (جنونًا) (٦) أو جذامًا أو برصًا أو (عفلًا: أنها) (٧) ترد من هذا ولها الصداق الذي استحل به فرجها ⦗٢٢٢⦘ (العاجل والآجل) (٨) وصداقه (على من غره) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول اور حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی، پھر اس عورت میں جنون، کوڑھ، برص یا شرم گاہ میں بال اگنے کی بیماری دیکھی تو ان بیماریوں کی وجہ سے اسے واپس بھیج سکتا ہے۔ البتہ عورت کو مہر ملے گا خواہ مؤجل ہو یا معجل۔ یہ مہر اس شخص پر واجب ہوگا جس نے آدمی کو اس عورت سے نکاح کرنے پر ابھارا ہوگا۔