کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مسلمانوں کے خلاف میدان کارزار میں سرگرم اہل کتاب کی خواتین سے نکاح جائز ہے یانہیں؟
حدیث نمبر: 16949
١٦٩٤٩ - حدثنا عباد بن عوام عن سفيان بن حسين عن الحكم عن مجاهد عن ابن عباس قال: لا يحل نكاح نساء أهل الكتاب إذا كانوا حربًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں مصروف اہل کتاب کی خواتین سے نکاح جائز نہیں۔ حضرت حکم فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات ابراہیم کو بتائی تو وہ بہت خوش ہوئے۔
حدیث نمبر: 16950
١٦٩٥٠ - قال الحكم: فحدثت به إبراهيم فأعجبه ذلك.
حدیث نمبر: 16951
١٦٩٥١ - حدثنا عبد الرحمن (بن محمد) (١) المحاربي عن حجاج عن الحكم عن أبي عياض قال: نساء أهل الكتاب لنا حلال إلا أهل الحرب فإن نساءهم وذبائحهم عليكم حرام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیاض فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنا ہمارے لئے حلال ہے البتہ اگر وہ جنگ کررہے ہوں تو ان کی عورتیں اور ذبیحہ حرام ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 16952
١٦٩٥٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن بن أبي (غنية) (١) عن الحكم قال: إن من أهل الكتاب من لا يحل لنا مناكحته ولا ذبيحته، أهل الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ کچھ اہل کتاب ایسے ہیں جن کی عورتیں اور ذبیحہ ہمارے لئے حلال نہیں۔ وہ اہل کتاب مسلمانوں سے جنگ کرنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 16953
١٦٩٥٣ - حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج (قال) (٢): أخبرني أبو بكر بن عبد اللَّه عن محمد بن عمرو (العتواري) (٣) ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اسلاف نے اہل کتاب کی عورت کے بارے میں فرمایا ہے کہ اگر وہ ارض حرب سے نکلے تو ارض عرب میں امان کے ساتھ داخل ہوگی۔ اگر وہ ارض عرب میں سکون ظاہر کرے تو مسلمان کے لئے اس سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر وہ صرف پیغام نکاح کی صورت میں سکون ظاہر کرے تو اس سے نکاح نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16954
١٦٩٥٤ - وعن عمرو بن سليم الزرقي عن ابن المسيب.
حدیث نمبر: 16955
١٦٩٥٥ - وعن أبي (النضر) (١) عن عروة بن الزبير أنهم قالوا في المرأة من أهل الكتاب: إذا دخلت من أرض الحرب تدخل أرض العرب بأمان، إن أظهرت السكون في أرض العرب فلا بأس أن ينكحها، المسلم، وإن لم يظهر ذلك إلا عند الخطبة لم تنكح.