حدیث نمبر: 16939
١٦٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن هبيرة عن علي قال: تزوج رجل من أصحاب النبي ﷺ يهودية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی رسول ﷺ نے ایک یہودی عورت سے شادی کی تھی۔
حدیث نمبر: 16940
١٦٩٤٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن هبيرة أن طلحة تزوج نصرانية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہبیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک عیسائی عورت سے شادی کی تھی۔
حدیث نمبر: 16941
١٦٩٤١ - حدثنا محمد بن فضيل عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: شهدنا القادسية مع سعد ونحن يومئذ لا نجد سبيلًا إلى المسلمات وتزوجنا اليهوديات والنصرانيات فمنا من طلق ومنا من أمسك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم جنگ قادسیہ میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے۔ ان دنوں مسلمان خواتین سے نکاح تک ہمیں رسائی نہیں تھی، لہٰذا ہم نے یہودی اور عیسائی عورتوں سے شادی کی۔ پھر بعض لوگوں نے انہیں طلاق دے دی اور بعض نے انہیں روکے رکھا۔
حدیث نمبر: 16942
١٦٩٤٢ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن الحكم عن جار لحذيفة عن حذيفة أنه (نكح) (١) يهودية وعنده عربيتان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ایک پڑوسی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ سے شادی کی حالانکہ ان کے نکاح میں دو عربی عورتیں تھیں۔
حدیث نمبر: 16943
١٦٩٤٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن سعيد بن جبير قال: لا بأس بنكاح النصرانية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اہل کتاب عورت سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 16944
١٦٩٤٤ - حدثنا هشيم عن مطرف عن الشعبي أنه كان لا يرى بأسًا بالنكاح في أهل الكتاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 16945
١٦٩٤٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن الحكم عن أبي عياض قال: لا بأس بنكاح اليهوديات والنصرانيات إلا أهل الحرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیاض فرماتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ اہل حرب عورتوں سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔