کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی کے نکاح میں باندی تھی، اس نے اس کا کچھ حصہ خرید لیا اب وہ اس سے وطی کرسکتا ہے یانہیں؟
حدیث نمبر: 16916
١٦٩١٦ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن في (رجل) (١) تزوج أمة بين رجلين فاشترى نصيب أحدهما قال: يكف عنها حتى (يشتري) (٢) نصيب الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے ایسی باندی سے نکاح کیا جو دو آدمیوں کے درمیان مشترک تھی، پھر اس نے ان میں سے ایک کا حصہ خرید لیا تو وہ اس وقت تک اس سے رکا رہے جب تک دوسراحصہ بھی نہ خرید لے۔
حدیث نمبر: 16917
١٦٩١٧ - حدثنا هشيم عن صاحب له عن حماد عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم بھی یہی فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 16918
١٦٩١٨ - حدثنا هشيم عن منصور عن قتادة قال: لم يزده ملكه (منها) (١) إلا قربًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ملکیت کی وجہ سے تعلق میں اضافہ ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 16919
١٦٩١٩ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان يقول: إذا اشترى من امرأة نصيبًا فلا يقربها حتى يستخلصها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی نے اپنی بیوی کا کچھ حصہ خرید لیا تو اس وقت تک اس کے قریب نہ جائے جب تک اسے چھڑا نہ لے۔