کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر غلام اپنی باندی بیوی کو دوطلاقیں دے دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 16909
١٦٩٠٩ - حدثنا عبد العريز بن عبد الصمد العمي عن عطاء بن السائب عن إبراهيم أن ابن مسعود قال في رجل يعني (عبدًا) (١) طلق امرأته تطليقتين وهي مملوكة فأعتقا، فقال ابن مسعود: لا يتزوجها حتى تنكح زوجًا غيره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی غلام اپنی باندی بیوی کو دو طلاقیں دے دے، پھر وہ دونوں آزاد ہوجائیں تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 16910
١٦٩١٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ باندی اگر کسی غلام کے نکاح میں ہو ، پھر وہ اسے طلاق دے، پھر دونوں اکھٹے آزاد ہوجائیں تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 16911
١٦٩١١ - وأبي معشر عن إبراهيم في الأمة تكون تحت العبد فيطلقها تطليقتين فيعتقان جميعًا (قالا) (١): لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
حدیث نمبر: 16912
١٦٩١٢ - [حدثنا عبد الأعلى عن داود عن عامر في العبد يطلق الأمة تطليقتين فيعتقان جميعًا قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ باندی اگر کسی غلام کے نکاح میں ہو ، پھر وہ اسے طلاق دے، پھر دونوں اکٹھے آزاد ہوجائیں تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 16913
١٦٩١٣ - حدثنا عبدة عن سعيد بن أبي عروبة (عمن) (١) حدثه عن يحيى بن أبي كثير عن أبي الحسن مولى لبني نوفل قال: كنت أنا وامرأتي مملوكين [[فطلقتها تطليقتين ثم (اعتقنا) (٢) بعد ذلك، فأردت مراجعتها فسألت ابن عباس فقال: إن راجعتها فهي عندك على واحدة ومضت اثنتان، قضى بذلك رسول اللَّه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الحسن (مولی بنی نوفل) فرماتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں مملوک تھے۔ میں نے اسے دو طلاقیں دے دیں۔ پھر ہم دونوں آزاد ہوگئے۔ میں اس سے رجوع کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اس بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم اس سے رجوع کرو تو ایک طلاق کا حق لے کر رجوع کرو گے۔ دو طلاقیں گذر گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 16914
١٦٩١٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: نا شيبان عن يحيى بن أبي كثير عن (عمر) (١) ابن (معتب) (٢) عن أبي الحسن مولى (لبني) (٣) نوفل عن ابن عباس عن النبي ﷺ (٤) بمثله (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 16915
١٦٩١٥ - حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن سعيد عن قتادة عن أبي سلمة وجابر ابن عبد اللَّه (قالا) (١): إذا أعتقت في عدتها فإنه يتزوجها إن شاء وتكون عنده ⦗٢١١⦘ على (واحدة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اسے عدت میں آزاد کردیا گیا تو اب خاوند اگر چاہے تو اس سے شادی کرلے اور اس کے پاس ایک طلاق کا حق رہ جائے گا۔