کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا)یا تسریح باحسان(بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16778
١٦٧٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن عوف عن أنس قال: كان إذا زوج ⦗١٨٧⦘ امرأة من بناته أو امرأة من بعض أهله قال لزوجها: أزوجك (على) (١): ﴿(فَإِمْسَاكٌ) (٢) بِمَعْرُوفٍ أَوْ (تَسْرِيحٌ) (٣) بِإِحْسَانٍ﴾ [البقرة: ٢٢٩] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہاپنی کسی بیٹی یا اپنے عزیزوں میں سے کسی بچی کی شادی کراتے تو اس کے خاوند سے کہتے کہ میں اس کی شادی اس بات پر کرتا ہوں کہ تم امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کروگے۔
حدیث نمبر: 16779
١٦٧٧٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت أن ابن عباس كان إذا زوج اشترط: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جب کسی بچی کی شادی کراتے تو خاوند سے امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاتے۔
حدیث نمبر: 16780
١٦٧٨٠ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) ابن أبي مليكة أن ابن عمر كان إذا (أنكح) (٢) قال: أنكحك على ما قال اللَّه: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی کا نکاح کراتے تو فرماتے کہ میں تم سے اس بات پر نکاح کراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } یعنی یا اچھے طریقے سے نبھاؤ یا عمدہ طریقے سے چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 16781
١٦٧٨١ - حدثنا ابن عيينة عن محمد بن عجلان قال: أخبرني سليمان أنه خطب إلى ابن عمر مولاة له فقال له مثل ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک مولاۃ خاتون کے لئے نکاح کا پیغام بھجوایا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے یہی فرمایا۔
حدیث نمبر: 16782
١٦٧٨٢ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: سألته فقلت: أكانوا يشترطون عند عقدة النكاح: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ قال: فقال: ذلك لهم وإن لم يشترطوا، ما كان أصحابنا يشترطون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ کیا اسلاف نکاح کرتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگایا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ یہ شرط تو نہ لگاتے تھے بلکہ شرط لگائے بغیر اس بات کا لحاظ ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 16783
١٦٧٨٣ - حدثنا ابن نمير عن (جرير) (١) عن الضحاك: ﴿وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾ [النساء: ٢١]، قال: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) ہے۔
حدیث نمبر: 16784
١٦٧٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير ﴿وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾ قال: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) ہے۔
حدیث نمبر: 16785
١٦٧٨٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سالم عن مجاهد: ﴿وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾ قال: عقدة النكاح، [(قال) (١): (قوله) (٢): قد (زوجتك) (٣)] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد عقد نکاح ہے۔
حدیث نمبر: 16786
١٦٧٨٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عكرمة ومجاهد ﴿وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾، (قالا) (١): أخذتموهن بأمانة اللَّه، واستحللتم فروجهن بكلمة اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ اور حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم نے ان سے اللہ کی امانت کو لیا ہے اور ان کی شرم گاہوں کو اپنے لئے اللہ کے کلمے سے حلال کیا ہے۔
حدیث نمبر: 16787
١٦٧٨٧ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن (حبيب) (١) عن ابن (عباس) (٢): ﴿وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾، قال: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) ہے۔