کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگرکوئی شخص اپنے نابالغ بچے کی شادی کرائے تومہر کس پر واجب ہوگا؟
حدیث نمبر: 16772
١٦٧٧٢ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن إدريس عن مطرف عن الحكم قال: قال ⦗١٨٦⦘ شريح: إذا أنكح الرجل ابنه وهو صغير جاز عليه فإذا بلغ فإن طلق فنصف المهر على الذي كفل به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے نابالغ بچے کی شادی کرائے تو یہ جائز ہے۔ البتہ جب وہ بالغ ہو اور طلاق دے دے تونصف مہر اس پر واجب ہوگا جو بچے کا کفیل ہے۔
حدیث نمبر: 16773
١٦٧٧٣ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: الصداق على الابن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں مہربچے پر واجب ہوگا۔
حدیث نمبر: 16774
١٦٧٧٤ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت (الحكم) (١) وحمادًا عن الرجل يزوج ابنه وهو صغير، قال (الحكم) (٢): على (الابن) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنے نابالغ بچے کی شادی کرادے تو مہر کس پر واجب ہوگا ؟ حضرت حکم نے فرمایا کہ مہر لڑکے پر واجب ہے۔ حضرت حماد نے فرمایا کہ باپ پر لازم ہے۔ حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مہر اس پر واجب ہے جس کا تم نے نکاح کرایا یعنی لڑکے پر۔
حدیث نمبر: 16775
١٦٧٧٥ - وقال حماد: هو على الأب.
حدیث نمبر: 16776
١٦٧٧٦ - وقال قتادة: قال ابن عمر: هو (على) (١) الذي انكحتموه، يعني الصداق على الابن (٢).
حدیث نمبر: 16777
١٦٧٧٧ - حدثنا حميد عن الحسن عن (مجالد) (١) عن الشعبي قال: هو على الأب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس صورت میں مہر باپ پر لازم ہے۔