کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک نابالغ بیٹے کانکاح کرانا باپ کے لئے جائز ہے
حدیث نمبر: 16766
١٦٧٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (عياش) (١) عن عبد اللَّه بن دينار عمن حدثه عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: (إذا أنكح الرجل ابنه وهو كاره فليس بنكاح، وإذا زوجه وهو صغير جاز نكاحه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر آدمی نے اپنے بالغ بیٹے کا نکاح کرایا اور وہ اس پر راضی نہیں تھا تو یہ نکاح جائز نہیں ہے۔ اگر اس کے نابالغ ہونے کی حالت میں اس کا نکاح کرایا تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 16767
١٦٧٦٧ - حدثنا (١) مطرف عن الحكم عن شريح قال: إذا زوج الرجل ابنه (أو) (٢) ابنته (فلا خيار) (٣) لهما إذا شبا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنے نابالغ بیٹے یا بیٹی کا نکاح کرایا توبالغ ہونے کے بعد انہیں اختیار ہوگا۔
حدیث نمبر: 16768
١٦٧٦٨ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن معمر عن الزهري والحسن (وقتادة) (١) قالوا: إذا أنكح الصغار آباؤهم جاز نكاحهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری، حسن اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اگر باپ دادا نابالغ بچوں کا نکاح کرادیں تو نکاح جائز ہے۔
حدیث نمبر: 16769
١٦٧٦٩ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن قال: إذا زوج الرجل ابنه وهو صغير فتزويجه جائز عليه، والصداق (على الابن) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنے نابالغ بیٹے کا نکاح کرادیا تو نکاح جائز ہے البتہ مہر بیٹے پر واجب ہوگا۔
حدیث نمبر: 16770
١٦٧٧٠ - حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: لا يجبر على النكاح إلا الأب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ نکاح پر باپ کے سوا کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 16771
١٦٧٧١ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن الحسن عن ليث عن عطاء قال: إذا أنكح الرجل ابنه وهو صغير فنكاحه جائز ولا طلاق له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنے نابالغ بیٹے کا نکاح کرادیا تو نکاح جائز ہے اور اس بچے کے پاس طلاق کا حق نہیں ہوگا۔