کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرانے سے پہلے اس سے اجازت طلب کرے گا
حدیث نمبر: 16721
١٦٧٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن ابن جريج عن ابن (أبي) (١) مليكة عن أبي عمرو مولى عائشة (عن عائشة) (٢) قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: " (تستأمر) (٣) النساء في أبضاعهن"، قالت: قلت: يا رسول اللَّه! إنهن ⦗١٧٤⦘ يستحيين!، قال: "الأيم أحق بنفسها، والبكر تستأمر، (فسكاتها) (٤) إقرارها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شادی کرانے سے پہلے عورتوں سے اجازت طلب کی جائے گی۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! وہ اس بات سے حیاء کریں گی ! حضور ﷺ نے فرمایا کہ بیوہ اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے، باکرہ سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے۔
حدیث نمبر: 16722
١٦٧٢٢ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق ومالك بن أنس عن عبد اللَّه ابن الفضل عن نافع بن جبير عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: (الأيم أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأمر، وصمتها إقرارها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بیوہ اپنے نفس کی ولی سے زیادہ حق دار ہے، باکرہ سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے۔
حدیث نمبر: 16723
١٦٧٢٣ - حدثنا حفص عن ابن جريج عن عطاء قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا خُطب (أحدٌ) (١) من بناته جلس إلى جنب خدرها فقال: "إن فلانًا يخطب فلانة" فإن سكتت زوجها وإن طعنت بيدها -وأشار حفص بيده السبابة- أي (يقول في فخذه) (٢) لم يزوجها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صاحبزادی کاپیغامِ نکاح آتا تو آپ اس کے پردہ والے کمرے کے پاس بیٹھ کر فرماتے کہ فلاں نے فلانی کے لئے پیغامِ نکاح بھیجا ہے۔ اگر وہ خاموش رہتیں تو وہ نکاح کرادیتے اور اگر وہ اپنے ہاتھ چبھوتیں تو آپ ان کی شادی نہ کراتے۔ یہ کہتے ہوئے راوی حضرت حفص نے اپنی انگشتِ شہادت کو ران میں چبھویا۔
حدیث نمبر: 16724
١٦٧٢٤ - حدثنا جرير عن ليث عن الحكم قال: قال علي: لا يزوج الرجل (ابنته) (١) حتى يستأمرها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی بیٹی کی اس وقت تک شادی نہیں کراسکتا جب تک اس سے اجازت طلب نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 16725
١٦٧٢٥ - حدثنا فضيل بن عياض عن منصور عن إبراهيم قال: إذا كانت ⦗١٧٥⦘ المرأة في عيال أبيها لم يستأمرها، وإن كانت في غير عياله استأمرها إذا أراد أن ينكحها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب عورت اپنے باپ کی سرپرستی میں ہو تو وہ اس سے اجازت طلب نہیں کرے گا اور اگر وہ کسی اور کی سرپرستی میں ہو تو اس کا نکاح کرنے سے پہلے اس سے اجازت طلب کرے گا۔
حدیث نمبر: 16726
١٦٧٢٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن (عاصم) (١) عن الشعبي قال: يستأمر الرجل ابنته في النكاح: البكر والثيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی باکرہ اور ثیبہ بیٹی کا نکاح کرانے سے پہلے اس سے اجازت طلب کرے گا۔
حدیث نمبر: 16727
١٦٧٢٧ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: نكاح الأب جائز على ابنته، بكرًا (كانت) (١) أو ثيبًا، كرهت أو لم تكره.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرمایا کرتے تھے کہ باپ کے لئے بیٹی کا نکاح ہر صورت میں کرانا جائز ہے، خواہ وہ باکرہ ہو یا ثیبہ اور خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند۔
حدیث نمبر: 16728
١٦٧٢٨ - حدثنا أبو خالد عن ابن جريج عن (ابن) (١) طاوس عن أبيه قال: لا يكره الرجل ابنته الثيب على نكاح هي تكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ آدمی کے لئے اپنی ثیبہ بیٹی کا نکاح ایسی جگہ کرانا مکروہ نہیں جہاں نکاح کو وہ ناپسند سمجھتی ہو۔
حدیث نمبر: 16729
١٦٧٢٩ - حدثنا أبو خالد عن مالك بن أنس قال: كان القاسم وسالم يقولان: إذا زوج أبو البكر البكر فهو لازم لها وإن كرهت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور حضرت سالم فرمایا کرتے تھے کہ جب باکرہ کے باپ نے اس کا نکاح کرادیا تو وہ طے ہوگیا خواہ اس کو ناپسندہو۔
حدیث نمبر: 16730
١٦٧٣٠ - حدثنا أبو خالد عن ابن جريج عن عطاء قال: إن كان أبو البكر دعاها إلى رجل ودعت هي إلى آخر، قال: يتبع هواها إذا لم يكن به بأس، وإن كان الذي دعاها إليه أبوها (أسنى) (١) في الصداق أخشى أن يقع في نفسها، وإن أنهرهها أبوها فهو أحق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر باکرہ لڑکی کا باپ کسی سے اس کا نکاح کرانا چاہے اور وہ کسی اور سے نکاح کی خواہش مند ہو تو باپ کو چاہئے کہ وہ اپنی بیٹی کی خواہش کا احترام کرے اگر اس میں کوئی حرج نہ ہو۔ اگرچہ باپ کی پسند کے رشتے میں مہر زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر لڑکی کا باپ اسے مجبور کرے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 16731
١٦٧٣١ - حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: لا يجبر على النكاح إلا الأب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ باپ کے سوا کوئی عورت کو نکاح پر مجبور نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 16732
١٦٧٣٢ - حدثنا عفان عن حماد بن سلمة عن أيوب عن عكرمة أن عثمان بن عفان كان إذا أراد أن يزوج أحدًا من بناته قعد إلى خدرها فقال: إن فلانًا يذكرك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب اپنی کسی بیٹی کا نکاح کرانا چاہتے تو اس کے پردے کے پاس بیٹھ جاتے اور فرماتے کہ فلاں تمہارا ذکر کررہا تھا۔
حدیث نمبر: 16733
١٦٧٣٣ - حدثنا عمرو بن محمد عن إبراهيم بن نافع عن ابن طاوس عن أبيه قال: تستأمر البكر وإن كانت بين أبويها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ باکرہ عورت سے اجازت طلب کی جائے گی خواہ وہ اپنے والدین کے درمیان ہو۔
حدیث نمبر: 16734
١٦٧٣٤ - حدثنا (حماد بن أسامة) (١) عن (كهمس) (٢) عن ابن بريدة (قال) (٣): جاءت (فتاة) (٤) إلى عائشة فقالت: (إن) (٥) أبي زوجني (من) (٦) ابن أخيه ⦗١٧٧⦘ (ليرفع) (٧) خسيسته وإني كرهت ذلك، فقالت لها عائشة: (انتظري) (٨) حتى (يأتي) (٩) رسول اللَّه ﷺ (١٠)، فلما جاء رسول اللَّه ﷺ أرسل إلى أبيها، فجعل الأمر إليها، (فقالت) (١١): أما إذا كان الأمر إلي فقد (أجزت) (١٢) ما صنع أبي، إنما أردت (أن) (١٣) أعلم هل للنساء من الأمر شيء (١٤) (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک جوان عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میرے باپ نے میری شادی اپنے بھتیجے سے کرادی ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنی غربت کو دور کرسکے۔ مجھے یہ نکاح ناپسند ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ، حضور ﷺ تشریف لائیں تو فیصلہ فرمائیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ سے ساری بات کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس کے والد کو بلا بھیجا۔ آپ نے فیصلے کا اختیار اس عورت کو دے دیا۔ اس پر اس عورت نے کہا کہ اگر فیصلے کا اختیار مجھے ہے تو میں اپنے والد کے کئے گئے نکاح کو جائز قرار دیتی ہوں۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا عورتوں کو کوئی حق ہوتا ہے یا نہیں ؟