کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے توکیاحکم ہے؟
حدیث نمبر: 16690
١٦٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ابن (جريج) (١) عن عكرمة بن ⦗١٦٦⦘ خالد (قال) (٢): جمعت الطريق ركبا، فجعلت امرأة منهم (ثيب) (٣) أمرها إلى رجل من (القوم) (٤) غير وليها، فأنكحها رجلًا، قال: فجلد عمر الناكح والمنكح (وفرق) (٥) بينهما (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک راستے میں مختلف قافلے جمع ہوئے۔ ان میں ایک ثیبہ عورت نے اپنا معاملہ اپنے ولی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے حوالے کیا کہ وہ کسی سے اس کی شادی کرادے۔ اس نے کسی آدمی سے اس کی شادی کرادی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ہوئی تو انہوں نے نکاح کرنے والے اور نکاح کروانے والے کو کوڑا مارا اور ان کے درمیان جدائی کرادی۔
حدیث نمبر: 16691
١٦٦٩١ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن حماد بن سلمة عن قتادة عن ابن المسيب والحسن في امرأة تزوجت بغير إذن وليها، قال: يفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا تو ان کے درمیان جدائی کروادی جائے گی۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ اگر اولیاء اجازت دے دیں تو پھر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 16692
١٦٦٩٢ - وقال القاسم بن محمد: إن أجازه الأولياء فهو جائز.
حدیث نمبر: 16693
١٦٦٩٣ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن مصعب قال: سألت إبراهيم عن امرأة تزوجت بغير ولي فسكت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ کیا عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرسکتی ہے ؟ وہ خاموش رہے۔ میں نے حضرت سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 16694
١٦٦٩٤ - وسألت سالم بن (أبي) (١) الجعد، فقال: لا يجوز.
حدیث نمبر: 16695
١٦٦٩٥ - حدثنا وكيع عن هشام عن ابن سيرين قال: إذا نكحت المرأة بغير ولي، ثم أجاز الولي جاز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ولی کی اجازت کے بغیر کسی عورت کا نکاح کرایا گیا، پھر ولی نے اجازت دے دی تو اس کا نکاح ہوگیا۔
حدیث نمبر: 16696
١٦٦٩٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن (بكر) (١) (قال) (٢): (تزوجت) (٣) (امرأة) (٤) بغير ولي ولا (بينة) (٥) (فكُتب إلى عمر) (٦) فكتب (أن) (٧) (تجلد) (٨) مائة، وكتب إلى الأمصار: أيما (امرأة) (٩) تزوجت بغير ولي فهي بمنزلة الزانية (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے ولی کی اجازت اور گواہی کے بغیر نکاح کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اس بارے میں خط لکھا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ اسے سو کوڑے مارے جائیں گے۔ پھر آپ نے سب شہروں میں خط لکھا کہ جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو وہ زانیہ کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 16697
١٦٦٩٧ - حدثنا معاوية (بن) (١) هشام قال: حدثنا سفيان عن رجل من أهل الجزيرة عن عمر بن عبد العزيز أن رجلًا (زوّج) (٢) امرأة ولها ولي هو (أولى) (٣) منه بدروب الروم، فرد عمر النكاح وقال: الولي وإلا فالسلطان.
مولانا محمد اویس سرور
اہل جزیرہ کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت کی شادی کرائی جبکہ اس مرد کے علاوہ اس کا کوئی اور قریب کا ولی بھی تھا۔ حضرت عمر بن عبدا لعزیز رحمہ اللہ نے اس نکاح کو مسترد کردیا اور فرمایا کہ پہلا حق ولی کا ہے پھر سلطان کا۔