حدیث نمبر: 16177
١٦١٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب (الثقفي عن حبيب) (١) قال: سئل (٢) عطاء عن العمرة في (غير) (٣) أشهر الحج، (فيها هدي واجب؟) (٤) قال: ليس فيها هدي واجب (٥)، وقد كانوا يهدون، وقد أهدى النبي ﷺ حين صده المشركون فهل كان أحرم بالعمرة؟ قال: نعم، وصالحهم أن يأتيهم في العام المقبل (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص حج کے مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینے میں عمرہ کرے تو کیا اس پر ھدی واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس پر ھدی واجب نہیں ہے، اور تحقیق صحابہ کرام ھدی دیا کرتے تھے، اور جس سال مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا تھا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی قربانی کی تھی، (راوی نے دریافت کیا کہ) کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کے لیے احرام باندھا ہوا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں، اور ان مشرکین کے ساتھ اس شرط پر صلح ہوئی کہ یہ لوگ آئندہ سال آئیں گے، اور میں نے حضرت امیر معاویہ کو بھی اشھر حج کے علاوہ عمرہ کرتے ہوئے قربانی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 16178
١٦١٧٨ - وقد رأيت معاوية ينحر جزورًا في العمرة في غير أشهر الحج (١).