کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: متمتع نہ روزے رکھے اور نہ ہی قربانی کرے یہاں تک کہ دن گزر جائیں
حدیث نمبر: 16174
١٦١٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن علي بن (بذيمة) (١) عن مولى لابن عباس قال: تمتعت فنسيت أن أنحر (هدي) (٢)، وأخرت (٣) حتى مضت الأيام، فسألت ابن عباس فقال: اهد هديًا لهديك، وهديًا لما أخرت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام فرماتے ہیں کہ میں نے تمتع کیا اور قربانی کرنا بھول گیا اور ھدی کو مؤخر کردیا یہاں تک کہ دن گزر گئے، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : اپنی ھدی کے واسطے ایک ھدی ادا کر، اور ایک ھدی اس پر جو تو نے اس کو مؤخر کیا۔
حدیث نمبر: 16175
١٦١٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن (زيد) (١) عن الصلت بن (راشد) (٢) قال: سألت طاوسًا عن رجل تمتع فلم يصم ولم يذبح ⦗٥٤⦘ حتى مضت الأيام قال: فقال: يذبح، قلت: لا يجد، قال: يبيع ثوبه، قلت: لا يجد، قال: فليستسلف من أصحابه، قلت: لا يعطونه، قال: كذبت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلت ابن رشد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے حج تمتع کیا اس نے روزے بھی نہیں رکھے اور قربانی بھی نہیں کی یہاں تک کہ دن گزر گئے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ قربانی کرے، میں نے عرض کیا کہ قربانی اس کے پاس نہیں ہے، آپ نے فرمایا کہ کپڑے فروخت کر کے خرید لے، میں نے کہا کہ اس کے پاس کپڑے بھی نہیں ہیں، آپ نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں سے ادھار طلب کرلے، میں نے عرض کیا کہ وہ دیتے نہیں ہیں، آپ نے فرمایا کہ تو نے جھوٹ بولا۔
حدیث نمبر: 16176
١٦١٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن زيد عن عبد الكريم عن عطاء وسعيد بن جبير في (رجل) (١) تمتع فلم يذبح ولم يصم (قال: فقالا) (٢): وجب (٣) عليه الدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور سعید بن جبیر اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو حج تمتع کرے اور قربانی نہ کرے نہ ہی روزے رکھے کہ اس پر دم واجب ہے۔