حدیث نمبر: 16151
١٦١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن عائشة أنها سُئلت عن الهميان للمحرم، فقالت: أوثق (نفقتك) (١) في حقوتك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ محرم تھیلی باندھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اپنے نفقہ کو ازار باندھنے کی جگہ پر باندھ لو۔
حدیث نمبر: 16152
١٦١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج قال: سألت أبا جعفر وعطاء عن الهميان للمحرم (فقالا) (١): لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر اور حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ محرم نقدی وغیرہ کے لیے تھیلی باندھ سکتا ہے ؟ ان حضرات نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 16153
١٦١٥٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن طاووس عن أبيه قال: لا بأس بالمنطقة للمحرم] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ محرم کے لیے پٹکا باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 16154
١٦١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمر بن محمد (قال: سألت) (١) سالمٍ بن عبد اللَّه عن المنطقة للمحرم فقال: لا بأس (به) (٢)، ورأيت عليه ثوبًا موردًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن محمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ سے دریافت کیا کہ محرم ڈوری (پٹکا) وغیرہ باندھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے دیکھا اس وقت آپ پر لال رنگ کا لباس تھا۔
حدیث نمبر: 16155
١٦١٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الحجاج عن الحكم عن إبراهيم قال: لا بأس (به) (١) وإن كان عريضًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس کو باندھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ وہ ظاہر بھی ہو رہا ہو۔
حدیث نمبر: 16156
١٦١٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن يحيى (عن) (١) نافع عن ابن عمر أنه كرهه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 16157
١٦١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أفلح عن القاسم قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 16158
١٦١٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسباط بن محمد عن مطرف عن صالح بن جبير عن سعيد بن جبير أنه سئل عن الرجل (تكون) (١) معه الدراهم يشدها على حقويه قال: نعم ولا يشدها على عقد الإزار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا گیا کہ آدمی کے پاس اگر دراھم ہوں تو ان کو ازار بند کی جگہ باندھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، لیکن ازار بند کی گرہ نہ باندھے اس پر۔
حدیث نمبر: 16159
١٦١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع أنه كره الهميان للمحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع محرم کے لیے نقدی وغیرہ کے لیے تھیلی باندھنے کو ناپسند خیال کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 16160
١٦١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي (بكير) (١) عن سعيد ابن جبير قال: لا بأس بالهميان للمحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ محرم اگر باندھ لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16161
١٦١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حميد الأعرج عن عطاء عن ابن عباس قال: لا بأس به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16162
١٦١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد قال: يلبس الهميان يعني المحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ محرم آدمی تھیلی باندھ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 16163
١٦١٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد أن (ابن) (١) الزبير قدم حاجًا فرمل في الثلاثة أطواف حتى رأيت (منطقته) (٢) على بطنه انقطعت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر حج کے لیے تشریف لائے اور آپ نے طواف کے تین چکروں میں رمل فرمایا، میں نے آپ کے پیٹ پر پٹکا بندھا ہوا دیکھا جو ٹوٹ گیا تھا۔
حدیث نمبر: 16164
١٦١٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام بن حسان عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان لا يرى بأسًا أن يلبس المحرم الهميان (إن) (١) كان يحرز فيه نفقته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ محرم کے لیے تھیلی باندھنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے جب وہ اس میں نقدی وغیرہ کو محفوظ کرے۔
حدیث نمبر: 16165
١٦١٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن موسى بن عبيدة قال: سألت عنه محمد بن كعب فقال: اختلف فيه الفقهاء، فإن شددت فحسن، وإن رخصت فحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن کعب سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کے متعلق فقہاء کرام کا اختلاف ہے، پس اگر تو باندھ لے تو اچھا ہے اور اگر چھوڑ دے تب بھی اچھا ہے۔
حدیث نمبر: 16166
١٦١٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس بالهميان للمحرم ولكن لا يعقد عليه السير ولكن يلفه لفًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ محرم اگر تھیلی باندھ لے تو کوئی حرج نہیں لیکن اس پر کوئی تسمہ وغیرہ نہ باندھے اس کو ویسے ہی لپیٹ لے۔