حدیث نمبر: 16121
١٦١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع بن الجراح عن النهاس بن قهم عن عطاء أنه كان يستحب أن لا يخرج من طوافه إلا على وتر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء پسند فرماتے تھے کہ وتر (طاق) طواف کے بغیر نہ لوٹا جائے۔
حدیث نمبر: 16122
١٦١٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن حسن بن يزيد عن سعيد ابن جبير قال: طوافان أحب إليّ من طواف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ دو طواف کر کے لوٹنا میرے نزدیک ایک طواف سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 16123
١٦١٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن العمري: عن نافع عن ابن عمر أنه كان ينصرف الليل والنهار على وتر من طوافه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دن اور رات میں جب لوٹتے تو طاق طواف کر کے لوٹتے تھے۔
حدیث نمبر: 16124
١٦١٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن عطاء أنه كان يحب (أن) (١) ينصرف على وتر من طوافه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء طاق طواف کر کے لوٹنے کو پسند فرماتے تھے ‘ اور حسن فرماتے تھے کہ دس طواف کرنا میرے نزدیک نو مرتبہ طواف کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور آٹھ بار طواف کرنا سات بار طواف کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
حدیث نمبر: 16125
١٦١٢٥ - (قال) (١): وكان الحسن يقول: عشرة أحب إليّ من تسعة، وثمانية أحب إليّ من سبعة.
حدیث نمبر: 16126
١٦١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن الحسن بن يزيد عن سعيد بن جبير أنه كان يقول: طوافان أحب (إليّ) (١) من طواف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ دو طواف کرنا مجھے ایک طواف کر کے لوٹنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 16127
١٦١٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (سعد) (١) عن ابن جريج عن عطاء أن عبد الرحمن بن أبي بكر طاف في إمارة سعيد فخرج إلى الصلاة، فقال عبد الرحمن: ⦗٤٥⦘ انتظر حتى انصرف على (وتر) (٢) (قال: فانتظره) (٣)، فانصرف على ثلاثة أطواف، ثم لم يعد لذلك السبع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر حضرت سعید کی امارت میں طواف کر رہے تھے ‘ حضرت سعید نماز کے لئے نکلے تو حضرت عبدالرحمن نے فرمایا میرا انتظار کرو ‘ یہاں تک کہ میں طاق طواف کر کے لوٹوں ‘ انہوں نے آپ کا انتظار فرمایا ‘ آپ تین چکر لگا کر لوٹ گئے ‘ پھر اس کا اعادہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 16128
١٦١٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عمر) (١) بن هارون عن ابن جريج عن عطاء قال: ثلاثة (أسباع) (٢) أحب إليّ من أربع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ تین چکر لگا کر لوٹنا مجھے چار چکر لگا کر لوٹنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔