کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جب قران کرے تو ھدی چلائے اور جو حضرات قران میں اجازت دیتے ہیں
حدیث نمبر: 16058
١٦٠٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن عبد الملك عن أبي جعفر أنه سئل عن الذي يقرن، قال: أحب إلي أن يسوق الهدي من حيث أحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو قران کرے ؟ فرمایا کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ قران کرنے والا جہاں سے احرام باندھے وہیں سے ھدی چلائے۔
حدیث نمبر: 16059
١٦٠٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عبد الملك عن عطاء أنه سئل عن رجل قرن الحج والعمرة، فقال: إن شاء ساق وإن شاء أجزأ عنه أن يبتاع (من مكة) (١) (شاة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص حج وعمرہ ملا کر کرے ؟ فرمایا کہ اگر وہ چاہے تو ھدی ساتھ چلائے اور اگر چاہے تو مکہ مکرمہ سے کوئی بکرا وغیرہ خرید لے۔
حدیث نمبر: 16060
١٦٠٦٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم أن شريحًا و (الحسين) (١) بن علي قرنا ولم يهديا] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے قران کیا اور ھدی نہیں بھیجی۔
حدیث نمبر: 16061
١٦٠٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن فطر عن الحكم قال: ما يعجبني (الإقران) (١)، إلا أن يسوق، والمتمتع (يجزئه) (٢) شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ مجھے قران پسند نہیں ہے مگر اس کے ساتھ ھدی کا جانور ہو، اور تمتع کرنے والے کے لیے بکری کافی ہے۔
حدیث نمبر: 16062
١٦٠٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن صالح العكلي قال: سألت الشعبي عن (الإقران) (١)، فقال: حسن، و (وبينهما) (٢) ما (استيسر) (٣)، و (سألته عن) (٤) التمتع فقال: حسن و (بينهما) (٥) ما (استيسر) (٦) و (سألته) (٧) عن التجريد فقال: حسن، فقلت: (أيهما) (٨) أعجب إليك؟ قال: التجريد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح العکلی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے حج قران کے متعلق دریافت کیا ؟ فرمایا اچھا ہے اور ان کے درمیان جو میسر ہو، میں نے ان سے تمتع کے متعلق دریافت کیا ؟ فرمایا اچھا ہے اور ان کے درمیان جو میسر ہو، میں نے اکیلے حج کے متعلق دریافت کیا ؟ فرمایا اچھا ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ کے نزدیک کون سا پسندیدہ ہے ؟ فرمایا اکیلا حج کرنا، (ساتھ عمرہ نہ ملانا) ۔
حدیث نمبر: 16063
١٦٠٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (فطر) (١) عن فضيل عن إبراهيم قال: القارن والمتمتع يجزئهما شاة، شاة يشتريانهما من مكة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ قران اور تمتع کرنے والے کے لیے ایک ایک بکری کافی ہے ان کو مکہ مکرمہ سے خریدے۔
حدیث نمبر: 16064
١٦٠٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن هشام عن ابن سيرين قال: كان (أحب) (١) الأشياء إليه (أن يحرم) (٢) القارن إذا ساق، وإن لم يسق فلا يعجبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ سب میں مجھے یہ پسند ہے کہ قران کرنے والا جب ھدی چلائے تو احرام باندھ لے اور اگر ھدی نہ چلائے تو کوئی پسندیدہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16065
١٦٠٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد عن موسى بن عبيدة قال: حدثنا بعض أصحابنا أنه سأل جابر بن عبد اللَّه: (أله) (١) أن يقرن بين حجة وعمرة بغير ⦗٣٣⦘ هدي، فقال: ما رأيت أحدًا منا فعل ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا بغیر ھدی کے قران کیا جاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے کسی کو ایسا کرتے میں نے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 16066
١٦٠٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن جابر (عن) (١) عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه أنه قرن واشترى هديه من مكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود نے حج قران فرمایا اور ھدی کا جانور مکہ مکرمہ سے خریدا۔
حدیث نمبر: 16067
١٦٠٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن عبد الكريم عن سعيد بن جبير أنه كره أن يقرن إلا أن يسوق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر بغیر ھدی کے جانور کے حج قران کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 16068
١٦٠٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن خصيف أو علي (ابن بذيمة) (١) عن مجاهد بنحوٍ منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔