کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب آدمی عرفات کی شام آئے تو وہ عرفات چلا جائے
حدیث نمبر: 16056
١٦٠٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن طاوس أنه كان يقدم عرفة (فيعارض) (١) إلى عرفة ولا يأتي البيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس عرفہ کے دن تشریف لاتے تو عرفات آجاتے اور کعبہ نہ جاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16056
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16056، ترقيم محمد عوامة 15595)
حدیث نمبر: 16057
١٦٠٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل عن الحسن وعطاء في الرجل يقدم مفردًا فيجد الناس وقوفًا بعرفة، (قال) (١): يقف معهم، فإذا كان ⦗٣١⦘ يوم النحر طاف طوافًا واحدًا وسعى بين الصفا والمروة، فأجزأه طواف القدوم من طواف الزيارة وعليه طواف يوم النفر حين يودع البيت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو شخص اکیلا آئے اور وہ لوگوں کو وقوف عرفہ میں پائے تو ان کے ساتھ وہاں وقوف کرے، پھر قربانی کا دن آئے تو ایک طواف کرے اور صفا ومروہ کی سعی کرے اس کے لیے طواف قدوم، طواف زیارت کی طرف سے کافی ہوجائے گا، اور اس پر واپس آتے وقت طواف وداع ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16057
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16057، ترقيم محمد عوامة 15596)