حدیث نمبر: 16033
١٦٠٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن سليمان بن (أبي) (١) المغيرة العبسي عن ابن أبي (نعم) (٢) عن أبي سعيد الخدري قال: ما (يقبل) (٣) من حصى الجمار رفع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید الخدری فرماتے ہیں کہ رمی میں جو کنکریاں قبول ہوجاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 16034
١٦٠٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن فطر عن أبي الطفيل قال: قلت لابن عباس: رمي (الناس) (١) في الجاهلية والإِسلام؟ فقال: ما يقبل منه رفع، و (لولا) (٢) ذلك كان أعظم من ثبير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الطفیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ لوگ اسلام اور جاہلیت دونوں میں رمی کرتے تھے، آپ نے فرمایا کہ جو کنکریاں قبول ہوجاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہاں تو کنکریوں کا ایک پہاڑ (بڑا ڈھیر) ہوتا۔