کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جان بوجھ کر شکار کرنے والا اور غلطی سے کرنے والا دونوں برابر ہیں
حدیث نمبر: 15980
١٥٩٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: يحكم عليه في الخطأ والعمد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جان بوجھ کر شکار کرنے والا اور غلطی سے کرنے والا دونوں پر یہی حکم لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 15981
١٥٩٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: يحكم عليه في الخطأ والعمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے بھی یہی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 15982
١٥٩٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن (عمرو) (١) بن مرة عن سعيد بن جبير قال: إنما جعل الجزاء في العبد، (ولكن غلظ عليهم في الخطأ كي يتقوا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جزاء جان بوجھ کر شکار کرنے والے پر تھی، لیکن یہی حکم غلطی سے کرنے والے پر بھی لگا دیا تاکہ لوگ اس سے احتیاط کریں۔
حدیث نمبر: 15983
١٥٩٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: العبد والخطأ في الصيد سواء، يحكم عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جان بوجھ کر اور غلطی سے شکار کرنے والے دونوں برابر ہیں، ان پر یہی حکم لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 15984
١٥٩٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الحكم أن عمر كان كتب (يحكم عليه) (١) في الخطأ والعمد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے (عاملین کو) لکھا تھا کہ جان بوجھ کر اور بھول کر غلطی سے شکار کرنے والا دونوں برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 15985
١٥٩٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محبوب) (١) (القواريري) (٢) عن إبراهيم بن طهمان عن جابر (٣) عن الحكم عن عمر مثله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 15986
١٥٩٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب قال: نبئت عن مجاهد أنه (قال) (١): لا يحكم [على من أصاب الصيد (متعمدًا) (٢) إنما يحكم على من أصاب خطأ.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ خبر دی گئی کہ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جو جان بوجھ کر شکار کرے اس پر حکم نہیں لگایا جائے گا، حکم اس پر لگایا جائے گا جو غلطی سے کرے، اور خبر دی گئی ہے کہ حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جو غلطی سے شکار کرے اس پر حکم نہیں لگایا جائے گا، جو جان بوجھ کر کرے اس پر حکم لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 15987
١٥٩٨٧ - ونبئت عن طاوس أنه قال] (١): لا يحكم على من أصابه خطأ، إنما يحكم على من أصابه متعمدًا.
حدیث نمبر: 15988
١٥٩٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن يمان عن سفيان عن جابر عن سالم والقاسم وعطاء وطاوس ومجاهد قالوا: إذا أصاب (الجنادب) (١) والقطا لم يحكم عليه خطأ، وإن أصابه متعمدا حكم عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم، حضرت قاسم، حضرت عطاء ، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر محرم غلطی سے چھپکلی یا ٹڈی مار دے تو اس پر حکم نہیں لگایا جائے گا، او اگر جان بوجھ کر مار ڈالے تو پھر اس پر حکم لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 15989
١٥٩٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن حسين عن قتادة عن أبي (مدينة) (١) عن ابن عباس قال: ليس عليه في الخطأ شيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ غلطی سے شکار کرنے والے پر کچھ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15990
١٥٩٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج عن عطاء قال: الخطأ والعمد في الصيد سواء يحكم (عليه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ غلطی سے اور جان بوجھ کر کرنے والے دونوں برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 15991
١٥٩٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان (عن يونس) (١) عن الحسن قال: يحكم عليه في الخطأ والعمد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بھی یہی فرماتے ہیں۔