کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: محرم اگر اپنے اونٹ کی چچڑیاں صاف کر دے تو کیا اس پر کچھ لازم آئے گا؟
حدیث نمبر: 15964
١٥٩٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد الحميد بن جعفر عن رجل يقال له عيسى: أن عليًا رخص للمحرم أن يقرد بعيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
عیسیٰ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے محرم کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے اونٹ کی چچڑیاں صاف کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15964
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15964، ترقيم محمد عوامة 15506)
حدیث نمبر: 15965
١٥٩٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن مجاهد أو عكرمة عن ابن عباس قال: لا بأس أن (يقرد) (١) المحرم بعيره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ محرم اگر اپنے اونٹ کی چچڑیاں صاف کرے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15965
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال عبد الكريم.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15965، ترقيم محمد عوامة 15507)
حدیث نمبر: 15966
١٥٩٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: لا بأس أن (يقرد) (١) المحرم بعيره.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے بھی یہی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15966
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15966، ترقيم محمد عوامة 15508)
حدیث نمبر: 15967
١٥٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن يحيى بن سعيد عن محمد بن ⦗١٢⦘ إبراهيم عن ربيعة بن عبد اللَّه بن (الهدير) (١) قال: رأيت عمر بن الخطاب يقرد بعيره بالسقيا وهو محرم ويجعله في الطين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیعہ بن عبد اللہ بن ھدیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو مقام سقیاء میں حالت احرام میں اونٹ کی چچڑیاں صاف کرتے ہوئے دیکھا، اور وہ اس کو مٹی میں ملا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15967
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15967، ترقيم محمد عوامة 15509)
حدیث نمبر: 15968
١٥٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج قال: سألت عطاء عن الرجل يقرد بعيره ويلقي عنه الدود (ويحلمه) (١)، فقال: قرد، (وحَلّم) (٢)، وألق الدود عن بعيرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ اونٹ کی چچڑیاں صاف کرتے ہوئے اگر کیڑا یا بڑی چچڑی نکل آئے ؟ فرمایا کہ چچڑیاں صاف کرو اور بڑی چچڑی کو بھی اور کیڑے کو بھی اونٹ سے دور پھینک دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15968
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15968، ترقيم محمد عوامة 15510)
حدیث نمبر: 15969
١٥٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سلام عن العلاء بن المسيب قال: قال رجل لعطاء: أقرد بعيري وأنا (١) محرم؟ قال: نعم قد فعل ذلك ابن عمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک شخص نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ حالت احرام میں اپنے اونٹ کی چچڑیاں صاف کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15969
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15969، ترقيم محمد عوامة 15511)
حدیث نمبر: 15970
١٥٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حماد بن أبي الدرداء (قال: سألت مجاهدًا) (١) عن المحرم يقرد بعيره؟ قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد بن ابی الدرداء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے دریافت کیا کہ محرم شخص اونٹ کی چچڑیاں صاف کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15970
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15970، ترقيم محمد عوامة 15512)
حدیث نمبر: 15971
١٥٩٧١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أفلح عن القاسم (أنه) (١) كره أن يقرد بعيره] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم حالت احرام میں اونٹ کی چچڑیاں صاف کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15971
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15971، ترقيم محمد عوامة 15513)
حدیث نمبر: 15972
١٥٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن عكرمة أنه (كره) (١) أن يقرد البعير، فقال ابن عباس: انحرها، قال: فنحرها فقال: كم قتلت ⦗١٣⦘ في جلدها من قراد أو (حمنانة؟) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ اونٹ کی چچڑیاں صاف کرنے کو ناپسند کرتے تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کو فرمایا کہ اونٹ کو ذبح کرو، انہوں نے اس کو ذبح کردیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تو نے اس کی کھال پر کتنی چچڑیاں مار دی ہیں ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15972
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15972، ترقيم محمد عوامة 15514)
حدیث نمبر: 15973
١٥٩٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن (عيينة) (١) عن (عمرو) (٢) عن أبي الشعثاء: المحرم يقرد بعيره ويطليه بالقطران.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الشعثائ فرماتے ہیں کہ محرم اپنے اونٹ کی چچڑیاں صاف کرسکتا ہے، اور اس پر قطران (درخت کے پتوں سے بنی ہوئی ایک خاص دوا) مل دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15973
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15973، ترقيم محمد عوامة 15515)
حدیث نمبر: 15974
١٥٩٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (عيينة) (١) ويزيد بن هارون عن يحيى (ابن) (٢) سعيد عن عكرمة عن ابن عباس قال: لا بأس به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15974
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15974، ترقيم محمد عوامة 15516)
حدیث نمبر: 15975
١٥٩٧٥ - حدثنا أبو بكر قال؛ حدثنا روح بن عبادة عن زكريا بن إسحاق قال: نا أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد اللَّه يقول: لا بأس أن يقرد المحرم بعيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ محرم اپنے اونٹ کی چچڑیاں صاف کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15975
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15975، ترقيم محمد عوامة 15517)