کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول {فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 15832
١٥٨٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل (عن جعفر عن أبيه ⦗٥٢٠⦘ عن علي) (١) في قوله (تعالى) (٢): ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ﴾ (فصيام ثلاثة أيام في الحج) قال: صم قبل التروية بيوم (ويوم التروية) (٣) ويوم عرفة فإن فاته الصوم تسحر ليلة الحصية. فصيام (ثلاثة أيام (في الحج) (٤) وسبعة) (٥) إذا رجع (إلى أهله) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہاللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک روزہ یوم الترویہ سے پہلے دن رکھو، ایک یوم الترویہ میں اور ایک عرفہ کے دن رکھو، اور اگر ان دنوں میں روزہ چھوٹ جائے تو چودھویں ذی الحجہ کی رات سحری کرو اور تین روزے رکھو اور سات روزے واپس آ کر رکھو۔
حدیث نمبر: 15833
١٥٨٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل وعياض وجرير عن منصور عن إبراهيم ومجاهد (قالا) (١): آخرها يوم عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ تین روزے اس ترتیب سے رکھو کہ آخری روزہ عرفہ کے دن ہو۔
حدیث نمبر: 15834
١٥٨٣٤ - [حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك عن حجاج قال: سمعت أبا جعفر يقول: آخرها يوم عرفة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر بھی یہی فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 15835
١٥٨٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك عن حجاج عن عطاء قال: إن شاء صام أول العشر ووسطها، وآخرها يوم عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو عشرے کے شروع میں روزہ رکھ لو یا درمیان میں اور آخری روزہ عرفہ کے دن ہونا چاہئے۔
حدیث نمبر: 15836
١٥٨٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مبارك عن حجاج عن (حبيب) (١) عن سعيد بن جبير مثل قول: عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے بھی حضرت عطاء کے قول کی مثل منقول ہے۔
حدیث نمبر: 15837
١٥٨٣٧ - [حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن مبارك عن حجاج عن القاسم بن نافع عن مجاهد قال: آخرها يوم عرفة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ تین روزے اس طرح رکھے کہ آخری روزہ عرفہ کے دن ہو۔
حدیث نمبر: 15838
١٥٨٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن مبارك عن حجاج قال: انطلقت أنا والحكم إلى أبي الوليد فأخبرنا أنه سمع ابن عمر يقول: آخرها يوم عرفة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آخری روزہ عرفہ کے دن ہو۔
حدیث نمبر: 15839
١٥٨٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن مسهر عن داود عن الشعبي في قوله (تعالى) (٢): ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ﴾ قال: قبل التروية يوما وآخرها يوم عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک روزہ یوم الترویہ سے پہلے رکھے اور آخری روزہ عرفہ کے دن رکھے۔
حدیث نمبر: 15840
١٥٨٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن داود عن الشعبي مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 15841
١٥٨٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد قال: من لم يصم قبل التروية بيوم، ويوم التروية ويوم عرفة فاته الصوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس شخص نے یوم الترویہ سے ایک دن پہلے، یوم الترویہ کو اور عرفہ کے دن روزہ نہ رکھا اس کے روزے فوت ہوگئے۔
حدیث نمبر: 15842
١٥٨٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن يونس بن أبى إسحاق عن وبرة عن ابن عمر وعبيد بن عمير قال ابن عمر: (قبل) (١) (يوم) (٢) التروية بيوم ويوم التروية ويوم عرفة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک روزہ یوم الترویہ سے ایک دن پہلے رکھے، ایک روزہ یوم الترویہ کو اور ایک روزہ عرفہ کے دن، اور حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ تین روزے ایام تشریق میں رکھے۔
حدیث نمبر: 15843
١٥٨٤٣ - وقال: عبيد بن عمير يصوم أيام التشريق.
حدیث نمبر: 15844
١٥٨٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس وابن طاوس عن أبيه يجعل المتمتع آخر صومه يوم عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ تمتع کرنے والا روزے اس طرح رکھے کہ آخری روزہ عرفہ کے دن ہو۔
حدیث نمبر: 15845
١٥٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن علية عن يونس عن الحسن: ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ﴾ آخرها يوم عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آخری روزہ عرفہ کے دن رکھے۔
حدیث نمبر: 15846
١٥٨٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو خالد الأحمر وحفص عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: آخرها يوم عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ آخری روزہ عرفہ کے دن رکھے۔