حدیث نمبر: 15823
١٥٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن العلاء بن المسيب عن رجل من بكر بن وائل قال: سألت ابن عمر قلت: إنا (نكري) (١) في هذا الوجه ⦗٥١٧⦘ (الحج) (٢)، وإن (ناسًا) (٣) يزعمون أن لا حج لنا، قال: ألستم تلبون وتطوفون بالبيت وبين الصفا والمروة وترمون الجمار وتقفون بالموقف؟ قالوا: بلى، قال: فإنكم حجاج قد جاء رجل إلى رسول اللَّه ﷺ فسأله عن مثل الذي (سألت) (٤) عنه فلم يجبه، حتى نزلت هذه الآية: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: ١٩٨]، فدعاه فقرأها عليه ثم قال: "إنكم حجاج" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ بکر بن وائل میں سے ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ہم حج کے لیے مزدوری کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کا گمان ہے کہ ہمارا حج نہیں ہوا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے تلبیہ نہیں پڑھا، کعبہ کا طواف نہیں کیا ؟ ہم نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ؟ فرمایا کہ پھر تم لوگ حج کرنے والے ہو، ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا اور اس نے بھی یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے پوچھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوگئی کہ { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ }، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور یہ آیت پڑھ کر سنا دی اور پھر فرمایا تم لوگ حج کرنے والے ہو۔
حدیث نمبر: 15824
١٥٨٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن (فضيل) (٢) عن الأعمش عن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: أتاه رجل فقال: إني أكريت نفسي من قوم (ووضعت) (٣) عنهم من (أجري) (٤) من أجل الحج فهل يجزئ ذلك (عني) (٥) فقال: ابن عباس: هذا من (الذين) (٦) قال اللَّه (تعالى) (٧): ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا ⦗٥١٨⦘ كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ (٨) [البقرة: ٢٠٢].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں خود کو (خدمت حج) کے لیے کرائے کے طور پر پیش کیا۔ لیکن میں نے حج کی وجہ سے اپنی اجرت چھوڑ دی تو کیا میرا حج ہوگیا۔ تو کیا میری طرف سے (حج) کافی ہوگیا ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ اسی میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ : { اُولٰٓئِکَ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَ اللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَاب }۔
حدیث نمبر: 15825
١٥٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن أنه سئل عن الأجير يؤاجر نفسه إلى مكة ثم يوسر، قال: يجزئ عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے اس مزدور کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے مکہ تک مزدوری کی پھر وہ مالدار ہوگیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 15826
١٥٨٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن ليث عن عطاء وطاوس [ومجاهد في التاجر والكري قالوا: يجزئهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد تاجر اور مزدور کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 15827
١٥٨٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (الحسن) (١) أبي طالوت] (٢) عن أبي (السليل) (٣) عن ابن عمر في الرجل يكري نفسه في الحج، قال: يجزئه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے آپ کو حاجیوں کی مزدوری کے لیے پیش کردیا، کہ اس کی طرف سے حج کافی ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 15828
١٥٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (نعيم) (١) عن (عمر) (٢) بن ذر قال: سألت مجاهدًا عن التاجر والكري والأجير، قال: لا (ينقص) (٣) الكري من حجه ولا التاجر من حجه ولا الأجير من (حجه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن ذرّ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے تاجر، مزدور اور اجیر کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ مزدور کے حج میں کوئی نقص اور کمی نہیں آئے گی، نہ تاجر کے حج میں اور نہ ہی اجیر کے حج میں۔
حدیث نمبر: 15829
١٥٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (نعيم) (١) ووكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن سعيد بن جبير قال: سمعته (وسأله أعرابي) (٢) فقال: إني (اكريت) (٣) إبلًا، وأنا أريد الحج، أيجزئني؟ قال: لا، ولا كرامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے ایک اعرابی نے دریافت کیا کہ میں نے ایک اونٹ مزدوری پر لیا اور میرا حج کرنے کا ارادہ ہے کیا یہ میرے لیے کافی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15830
١٥٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن سعيد ابن جبير قال: لا يجزئه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ نہیں کافی ہوگا۔
حدیث نمبر: 15831
١٥٨٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (الجريري) (١) عن أبي (السليل) (٢) قال: قلت لسعيد بن المسيب: إن (ناسًا) (٣) يزعمون (أو) (٤) من زعم (منهم) (٥) أن الكري لا حج له، قال: بل له حج حسن جميل، إن اتقى اللَّه وأدى الأمانة وأحسن (الصحبة) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السلیل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا کہ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مزدوری کرنے والے کا حج نہیں ہوتا ؟ آپ نے فرمایا بلکہ اس کا اچھا اور عمدہ حج ہوگا اگر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے، امانت کو صحیح طریقے سے ادا کرے اور اچھا ساتھی بن کر رہے۔