کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
حدیث نمبر: 15816
١٥٨١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن هلال عن أبي شعبة قال: كانت بجنب ابن عمر بعرفة وإن ركبتي لتمس ركبته أو فخذي يمس فخذه فما سمعته يزيد على هؤلاء الكلمات: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، حتى أفاض من عرفة إلى جمع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شعبہ فرماتے ہیں کہ عرفہ کے دن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا اور میری سواری ان کی سواری کے ساتھ لگی ہوئی تھی یا میری ران ان کی ران کے ساتھ لگی ہوئی تھی، میں نے ان سے ان کلمات سے زائد کچھ نہیں سنا، لاَ إلَہَ لاَ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ یہاں تک کہ عرفات سے منیٰ کی طرف چل پڑے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15816
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15816، ترقيم محمد عوامة 15364)
حدیث نمبر: 15817
١٥٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد عن سعيد بن السائب عن داود بن أبي عاصم قال: وقفت مع سالم بن عبد اللَّه بعرفة انظر كيف يصنع؟ فكان في الذكر والدعاء حتى أفاض الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داوٗد بن ابو عاصم فرماتے ہیں کہ میں حضرت سالم بن عبد اللہ کے ساتھ عرفہ میں ٹھہرا تا کہ میں دیکھوں وہ کیا کرتے ہیں، وہ ذکر اور دعاؤں میں مشغول رہے یہاں تک کہ لوگ منیٰ چلے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15817
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15817، ترقيم محمد عوامة 15365)
حدیث نمبر: 15818
١٥٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن أخيه عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (أكثر) (١) دعائي ودعاء الأنبياء قبلي بعرفة: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم اجعل في قلبي نورًا وفي سمعي نورا وفي بصري نورا، اللهم اشرح لي صدري ويسر لي أمري وأعوذ بك من وسواس الصدر وشتات الأمر وفتنة القبر، اللهم إني أعوذ بك من شر ما يلج في الليل و (من) (٢) شر ما يلج في النهار وشر ما تهب به الرياح" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اکثر میں اور میرے سے پہلے انبیاء کرام عرفات میں یہ دعا مانگتے تھے۔ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کی بادشاہی اور اس ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ تو میرے دل، کان اور آنکھ کو منور فرما۔ اے اللہ میرے سینہ کو کھول دے اور میرے کام کو آسان کر دے۔ میں تجھ سے قلبی وساوس اور معاملہ کی سختی سے پناہ مانگتا ہوں اور فتنۂ قبر سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ میرے یا سے فتنوں سے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جو دن یا رات میں پیش آئیں اور جن فتنوں کو ہوا لے کر چلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15818
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ موسى ضعيف، وأخوه لم يسمع من علي، أخرجه إسحاق كما في المطالب (١٢٣٩)، والمحاملي في الدعاء (٦٣)، والبيهقي ٥/ ١١٧، وفي فضائل الأوقات (١٩٥)، وبنحوه الترمذي (٣٥٢٠)، وابن خزيمة (٢٨٤١)، والطبراني في الدعاء (٨٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15818، ترقيم محمد عوامة 15366)
حدیث نمبر: 15819
١٥٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (النضر) (١) بن (عربي) (٢) عن (ابن) (٣) أبي حسين قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (أكثر) (٤) دعائي ودعاء الأنبياء قبلي ⦗٥١٦⦘ بعرفة: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد بيده الخير يحيى ويميت وهو على كل شيء قدير" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی حسین سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اکثر میں اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام عرفات میں یہ دعا مانگتے ہیں : اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہیں اس ہی کی بادشاہی اور اس ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ تمام بھلائیاں اس ہی کے قبضہ میں ہیں۔ وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر شی پر قادر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15819
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أخرجه ابن عبد البر في التمهيد (٦/ ٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15819، ترقيم محمد عوامة 15367)
حدیث نمبر: 15820
١٥٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن عمرو بن مرة عن رجل عن ابن الحنفية قال: قلت له: ما أفضل ما (نقول) (١) في حجنا؟ قال: لا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن الحنفیہ سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ حج میں کون سی دعا پڑھنا افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15820
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15820، ترقيم محمد عوامة 15368)
حدیث نمبر: 15821
١٥٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن صدقة بن يسار قال: سألت مجاهدًا عن قراءة القرآن أفضل يوم عرفة أو الذكر؟ قال: لا، بل قراءة القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صدقہ بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے دریافت کیا کہ عرفات میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا افضل ہے یا ذکر کرنا ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ قرآن کی تلاوت کرنا افضل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15821
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15821، ترقيم محمد عوامة 15369)
حدیث نمبر: 15822
١٥٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد ابن فضيل عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن (شتر) (١) قال: قلت لابن الحنفية ما أفضل ما نقول في حجنا؟ قال: لا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن شتر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن الحنفیہ سے عرض کیا کہ حج میں ہم کیا کہیں تو افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15822
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15822، ترقيم محمد عوامة 15370)