حدیث نمبر: 15810
١٥٨١٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) جرير عن منصور عن إبراهيم عن زياد ابن لبيد قال: قال شريح: إذا أهللت (بعمرة وحجة) (٢) ثم قدمت مكة فلا يحلن منك ⦗٥١٣⦘ حرام إلى يوم النحر، فإنهم سيقولون لك: إذا طفت لعمرتك (٣) (فحل) (٤)، فلا (تطعهم) (٥) في ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب حج وعمرہ کا احرام باندھو پھر جب مکہ آؤ تو تم میں سے کوئی بھی یوم النحر تک احرام نہ کھولے، بیشک وہ عنقریب تم سے کہیں گے کہ : جب تم حج وعمرہ کے لیے طواف کرلو تو احرام کھول دو ، پس تم اس معاملہ میں ان کی اطاعت مت کرنا۔
حدیث نمبر: 15811
١٥٨١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم أن الحسين بن علي (وشريحًا) (١) قرنا، فلم يحل واحد منهما (إحرامًا) (٢) إلى يوم النحر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت شریح نے حج وعمرہ کے لیے اکٹھے احرام باندھا پھر ان میں سے کوئی بھی یوم النحر سے پہلے حلال نہ ہوا۔
حدیث نمبر: 15812
١٥٨١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن مالك بن الحارث عن أبي نصر أن عليًا قال له: لب بهما جميعًا، فإذا قدمت مكة (فطف) (١) لهما (طوافين) (٢) طوافًا لعمرتك وطوافا لحجتك، ولا تحلن منك حراما دون يوم النحر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نصر سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ حج وعمرہ دونوں کے لیے تلبیہ پڑھو، جب تم مکہ مکرمہ آؤ تو ان کے لیے دو طواف کرو، ایک طواف عمرہ کے لیے اور ایک طواف حج کے لیے، اور تم میں سے کوئی بھی یوم النحر سے پہلے احرام نہ کھولے۔
حدیث نمبر: 15813
١٥٨١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم عن جعفر عن أبيه عن جابر أن النبي ﷺ قال لعلي: "ما قلت حين فرضت الحج؟ " قال: قلت (اللهم) (١): إني أهل بما أهل به رسولك ﷺ (٢)، قال: "فإن معي الهدي فلا يحل منك حرام"، قال: فحل ⦗٥١٤⦘ الناس كلهم وقصروا، (إلا) (٣) النبي ﷺ (٤) ومن كان معه هدي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جب تم نے حج کا ارادہ کیا تھا تو کیا کہا تھا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یوں کہا : اللَّہُمَّ إِنِّی أُہِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُکَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیشک میرے پاس تو ھدی ہے اور جو ھدی کے ساتھ محرم ہے وہ حلال نہ ہو، راوی فرماتے ہیں کہ تمام لوگوں نے احرام کھول دیا اور قصر کروا لیا سوائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور ان لوگوں کے جن کے پاس ھدی تھی۔
حدیث نمبر: 15814
١٥٨١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن ابن (أبي) (١) مليكة عن عروة أن أبا بكر وعمر كانا يقدمان وهما (مهلان) (٢) بالحج فلا يحل منهما حرامًا (٣) إلى يوم النحر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر تشریف لائے اور آپ دونوں نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا، پس آپ دونوں یوم النحر تک حلال نہ ہوئے۔
حدیث نمبر: 15815
١٥٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: من أحرم بالحج والعمرة جميعًا كفاه طواف واحد ولم يحل حتى يقضي حجته ويحل منهما جميعًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص حج وعمرہ کا احرام باندھے اس کے لیے ایک طواف ہی کافی ہے اور وہ احرام نہ کھولے یہاں تک کہ اپنا حج بھی مکمل کرے پھر دونوں احراموں کو کھول دے۔