کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی مرد یا عورت کا انتقال اس حال میں ہو جائے کہ ان پر حج لازم ہو
حدیث نمبر: 15681
١٥٦٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: جاءت امرأة إلى ابن عباس فقالت: إن أمي ماتت وعليها حجة فأقضيها عنها؟ فقال ابن عباس: هل كان على أمك دين؟ قالت: نعم، قال: فكيف صنعت؟ قالت: قضيته عنها، قال ابن عباس: فاللَّه خير غرمائك (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک خاتون حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کے ذمہ حج لازم تھا کیا میں ان کی طرف سے ادا کر دوں ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا ان کے ذمہ کچھ قرضہ تھا ؟ اس خاتون نے عرض کیا کہ جی ہاں، آپ نے پوچھا کہ پھر تو نے اس کا کیا کیا ؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے وہ ادا کردیا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہترین قرض خواہ ہے، (اس کا قرض بھی ادا کرو) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15681
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15681، ترقيم محمد عوامة 15236)
حدیث نمبر: 15682
١٥٦٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن النعمان بن سالم عن عمرو بن أوس عن أبي رزين العقيلي أنه أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن أبي شيخ كبير لا يستطيع الحج والعمرة ولا (الظعن) (١) قال: "حج عن أبيك واعتمر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین العقیلی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں اور وہ حج وعمرہ کی طاقت نہیں رکھتے اور وہ چل بھی نہیں سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ ادا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15682
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦١٨٤)، وأبو داود (١٨١٠)، والنسائي ٥/ ١١٧، والترمذي (٩٣٠)، وابن ماجه (٢٩٠٦)، وابن خزيمة (٣٠٤٠)، وابن حبان (٣٩٩١)، والحاكم ١/ ٤٨١، وابن الجارود (٥٠٠)، والطيالسي (١٠٩١)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٥٤٦)، والطبراني ١٩/ (٤٥٧)، والبيقهي ٤/ ٣٢٩، وابن عبد البر في التمهيد ١/ ٣٨٩، والدارقطني ٢/ ٢٨٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15682، ترقيم محمد عوامة 15237)
حدیث نمبر: 15683
١٥٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال جاء رجل إلى (رسول اللَّه) (١) ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن أبي شيخ كبير لا يستطيع الحج (أفأحج) (٢) عنه؟ قال: "نعم فحج عن أبيك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص خدمت اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے والد بہت بوڑھے اور حج کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15683
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه ابن حبان (٣٩٩٤)، والنسائي ٥/ ١١٨، والدارقطني ٢/ ٢٨١، والطبراني في الأوسط (٧٤٦٣)، والصغير (٨١٢)، وأبو يعلى (٢٣٥١)، وعبد ابن حميد (٦١١)، وابن بشكوال في غوامض الأسماء ٢/ ٥٢٢، والخطيب في تاريخ بغداد ٥/ ٢٦٤، وابن حزم في حجة الوداع (٥٢٩)، وأصله في صحيح البخاري (٦٦٩٩)، ومسلم (١٣٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15683، ترقيم محمد عوامة 15238)
حدیث نمبر: 15684
١٥٦٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (حفص عن) (١) جعفر عن أبيه عن علي قال: في الشيخ الكبير قال: يجهز رجلًا بنفقته فيحج عنه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بوڑھے شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کے نفقہ سے کسی شخص کو تیار کیا جائے گا پھر وہ اس کی طرف سے حج کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15684
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15684، ترقيم محمد عوامة 15239)