حدیث نمبر: 15643
١٥٦٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن (جميل) (١) بن زيد قال: رأيت ابن عمر طاف بالبيت ثلاثة أطواف ثم قعد يستريح، وغلام له يروح علينا ثم قام (فبنى) (٢) على طوافه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جمیل بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ نے طواف کے تین چکر لگائے پھر آرام کے لیے بیٹھ گئے، آپ کا غلام ہمیں پنکھے سے ہوا دے رہا تھا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور اپنے طواف کے چکر مکمل کیے۔
حدیث نمبر: 15644
١٥٦٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن ميسر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: أستريح في الطواف فأجلس؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ کیا طواف میں آرام کے لیے بیٹھ سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔
حدیث نمبر: 15645
١٥٦٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: كان لا يرى بأسًا أن يستريح الرجل في سعيه، إذا طاف بين الصفا والمروة من (خضد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی شخص سارے چکر اکٹھے لگانے سے عاجز آجائے تو وہ صفا ومروہ کی سعی کے دوران آرام کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 15646
١٥٦٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن عبد الكريم الجزري عن عطاء قال: لا بأس أن يستريح الرجل بين الصفا والمروة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں کہ صفا ومروہ کی سعی میں آرام کیا جائے۔
حدیث نمبر: 15647
١٥٦٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن أبي العالية الواسطي قال: رأيت الحسن يستريح بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ الواسطی فرماتے ہیں کہ میں نے حسن کو صفا ومروہ کی سعی کے دوران آرام کرتے ہوئے دیکھا، پھر میں نے حضرت مجاہد سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 15648
١٥٦٤٨ - (فذكرت) (١) لمجاهد فكرهه.