حدیث نمبر: 15616
١٥٦١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمر (بن ذر) (١) عن عطاء قال: لا (تقمّل) (٢) وأنت محرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اپنے سر میں جوئیں مت پڑنے دے اس حال میں کہ تو محرم ہے، (سر کو کھجانا محرم کے لیے جائز ہے) ۔
حدیث نمبر: 15617
١٥٦١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أفلح عن القاسم قال: يحك رأسه ببطن أنامله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ محرم انگلیوں کے اندر والے حصہ سے کھجلی کرے گا۔
حدیث نمبر: 15618
١٥٦١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس أن يحك (المحرم) (١) رأسه حكا (رفيقًا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر محرم آہستہ سے کھجلی کرے تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 15619
١٥٦١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسباط بن محمد عن عمرو بن ميمون عن أبيه عن عبد اللَّه بن عمر قال: سألني رجل أحك رأسي وأنا محرم؟ قال: إن شئت، قال: إني (حككته) (١) فوقعت منه قملة فطلبتها ولم أجدها قال: ضالة لا توجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ میں حالت احرام میں اپنے سر کو کھجلا سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں اگر تو چاہے، اس نے عرض کیا کہ میں نے سر کو کھجلایا تو اس میں ایک جوں گری پھر میں نے دوبارہ اس کو تلاش کیا تو نہ پایا، آپ نے عرض کیا کہ وہ بھاگنے والی ہے تو اس کو نہ پائے گا۔
حدیث نمبر: 15620
١٥٦٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه أن رجلًا قال لابن عباس وهو في الحج وهو محرم: أحك رأسي وأنا محرم؟ فجمع ابن عباس يديه جمعًا فحك بهما رأسه قال: أما أنا فأقول (هكذا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا اس حال میں کہ آپ حج کے احرام میں تھے کہ میں حالت احرام میں سر کو کھجلا سکتا ہوں ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کیا اور ان کے ساتھ سر کو کھجلایا اور فرمایا کہ میں تو بہر حال یہی کہتا ہوں، اس شخص نے عرض کیا کہ اگر آپ کوئی جوں مار دیں ؟ آپ نے فرمایا تیرے لیے دوری ہے جوں تو میرے سر کے کھجلانے میں رکاوٹ نہیں ہے، اور بیشک تم لوگوں کو حج میں صرف شکار کرنے سے روکا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 15621
١٥٦٢١ - فقال له الرجل: أرأيت إن قتلت قملة؟ فقال: بعدت وما القملة (مانعتي) (١) من حك رأسي، وما نهيتم إلا عن الصيد (٢).
حدیث نمبر: 15622
١٥٦٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن (أبي) (١) الزبير أنه سمع جابر بن عبد اللَّه يقول: ببطن أنامله يقول في حك المحرم رأسه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انگلیوں کے اندرونی حصہ سے محرم سر کو کھجلائے گا، اور فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتلایا جس نے حضرت عمر کو کھجلاتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 15623
١٥٦٢٣ - قال وأخبرني من رأى عمر يحك حكًا (١).
حدیث نمبر: 15624
١٥٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء في المحرم يحك رأسه قال: نعم (يحكه) (١) بأنامله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ محرم سر کو کھجلا سکتا ہے، فرمایا کہ جی ہاں انگلیوں کے پوروں ساتھ۔
حدیث نمبر: 15625
١٥٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن إبراهيم بن مهاجر قال: قلت له: سمعت إبراهيم لا يرى بأسًا أن يحك المحرم، قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن مہاجر سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے حضرت ابراہیم سے یہ بات سنی تھی کہ محرم اگر سر کو کھجلا لے تو کوئی حرج نہیں ہے ؟ فرمایا ہاں۔
حدیث نمبر: 15626
١٥٦٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن التيمي عن أبي مجلز قال: رأيت ابن عمر يحك رأسه وهو محرم، فتفطنت فإذا هو يحكه بأنامله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ حالت احرام میں سر کو کھجلا رہے تھے، پھر میں نے غور سے گھور کر دیکھا تو آپ اپنی انگلیوں سے کھجلا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 15627
١٥٦٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي إسحاق عن عبيد (ابن عمير) (١) قال: لا بأس أن يحك رأسه وهو محرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں اگر محرم سر کو کھجلا لے۔
حدیث نمبر: 15628
١٥٦٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن عطاء قال: يحكه حكًا خفيفًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ محرم سر کو آہستہ آہستہ کھجلائے گا۔