کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص حدود حرم کے باہر سے شکار پکڑ کر اس کو حدود حرم میں لے جا کر پھر ذبح کرے تو اس کا بیان
حدیث نمبر: 15465
١٥٤٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى قال: سئل عطاء عن الصيد يوجد في الحل فيذبح في الحرم فقال: كان الحسن بن علي وعائشة وابن عمر يكرهونه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص حدود حرم کے باہر سے شکار پکڑ کر اس کو حدود حرم میں ذبح کرے تو کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 15466
١٥٤٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث عن عطاء وطاوس أنهما (كانا) (١) يكرهان أن يُدخل الصيد الحرم ثم يذبح فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت طاؤس اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص باہر سے شکار پکڑ کر اس کو حدود حرم میں لے جا کر ذبح کرے۔
حدیث نمبر: 15467
١٥٤٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو داود عن هشام الدستوائي عن أبي الزبير عن جابر أنه لم ير بأسًا بالصيد يصطاده الحلال في الحل (أن) (٢) ⦗٤٤٠⦘ يأكله الحلال في الحرم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ حلال شخص حدود حرم کے باہر سے شکار پکڑ کر اس کو حدود حرم میں جا کر کھائے، راوی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 15468
١٥٤٦٨ - قال: كان ابن عباس يكرهه (١).